خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 410

خطابات شوری جلد دوم ۴۱۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء ۲ - ( ترمیم ) مدرسہ کی جو موجودہ صورت ہے وہی قائم رہے اور معیار کو بڑھایا نہ جائے۔۳۔(ترمیم) مڈل پاس کا معیار قائم کر دیا جائے۔اس کے بعد رائے شماری کی گئی۔سب کمیٹی کی تجویز کی تائید میں ۸۵۔ترمیم اول ( موجودہ صورت قائم رہے ) کی تائید میں ۱۰۹۔ترمیم دوم (مڈل پاس کا داخلہ ہو ) کی تائید میں ۱۵۲۔رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا : - دورانِ گفتگو میں میری یہ رائے ہوگئی تھی کہ موجودہ صورت میں تجربہ مڈل پاس کا معیار ہی اختیار کر لیا جائے کیونکہ بعض لوگ ڈر رہے ہیں۔میں نے اس اثناء میں ہیڈ ماسٹر صاحب سے دریافت کر لیا تھا کہ مڈل پاس کے لئے کس قدر عرصہ درکار ہو گا۔تو اُنہوں نے کہا ہے کہ تین سال کافی ہوں گے۔میری رائے دورانِ گفتگو میں مڈل پاس کے متعلق ہوگئی تھی اس لئے میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔مجھے اب خیال آیا کہ مدرسہ بنات میں بھی ہم نے یہی سکیم جاری کی ہوئی ہے۔وہاں بھی مڈل پاس کرنے کے بعد ہم دینیات کی طرف گئے ہیں۔اس طرح ان دونوں میں ایک قسم کا اشتراک پیدا ہو گیا ہے گو میری رائے یہی ہے جیسا کہ کل میں نے ایک دوست سے ذکر کیا تھا کہ مبلغ کے لئے اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ ارادوں کا ہونا نہایت ضروری ہے اور اس کے لئے صحیح معیار انٹرنس پاس ہی ہے۔کیا ہم چوتھی جماعت پاس کے طلباء کا انٹرویو کر سکتے ہیں؟ ہاں مڈل پاس کا انٹرویو ایک حد تک ہو سکتا ہے مگر پوری طرح نہیں۔تبلیغ کے لئے ہم کو ایسے آدمی کی ضرورت ہے کہ جس میں اُمنگیں اور جذبات پیدا ہو گئے ہوں اور اس میں قابلیت پیدا ہو گئی ہو کہ وہ اپنے متعلق یہ فیصلہ کر سکے کہ میں آئندہ کیا کروں گا اور اس کا معیار کم سے کم انٹرنس پاس ہے۔اس کے اُستاد بھی اس امر کی شہادت دے سکتے ہیں کہ اس کے اخلاق اور میلان طبع کیا ہیں۔پرائمری پاس تو ابھی بچہ ہی ہوتا ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔اَلصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَلَوْ كَانَ نَبِيَّات کہ اس کے اخلاق کا ابھی اظہار نہیں ہوتا ، وہ اپنے اخلاق کو ظاہر نہیں کرتا۔وہ تو ایک نقال ہوتا ہے اور اپنے والدین کے اخلاق کو ظاہر کرتا ہے لیکن جب اس کی عمر بڑی ہوتی ہے تو اُس وقت اس کی حیثیت ایک منفردانہ رنگ رکھتی ہے۔اور جب میں ایسے دلائل کو سُنتا ہوں کہ اس