خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 409

خطابات شوری جلد دوم ۴۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء تو ہم کریں گے۔قرآن مجید نے سب صداقتوں کو بیان کیا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم تو اپنا حق لیں مگر ان کا حق نہ دیں۔یہ ان کا قرضہ تھا جس کو اس صورت میں ادا کرنا چاہئے۔اردو میں ایک مثال ہے کہ کبھی ایک کام کرنے کے دو نتیجے نکل آتے ہیں۔انگریزی میں بھی یہ مثال ہے کہ کبھی ایک پتھر سے دو شکار مارے جاتے ہیں۔پس ہم جب ان کا یہ قرضہ اُتاریں گے تو دوسری طرف عملی لحاظ سے ہم کو فائدہ ہوگا۔وہ ہماری باتوں کو شوق سے سنیں گے۔اس طرح یہ غرض جو سیرت مسیح موعود کی ہے پوری ہو جائے گی۔مجھے صرف الفاظ پر اعتراض تھا کہ اگر لوگ سُن لیں تو بہتر اور اگر نہ سنیں تو پہلے فائدہ سے محروم نہیں ہونا چاہئے۔گو میرے نزدیک یہ الفاظ کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں کہے گئے بلکہ بعض اوقات انسان سے الفاظ بے احتیاطی سے لکھے جاتے ہیں۔سیرت کے متعلق اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس کا جماعت میں چرچا ہونا چاہئے۔اس کے لئے الفضل کا ایک سالانہ نمبر سیرت پر ہوا کرے۔یہ پرچہ چالیس پچاس صفحات کا ہو تا کہ جماعت کے سامنے یہ مضمون بار بار آتے رہیں۔“ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ میں داخلہ کا معیار سب کمیٹی تعلیم و تربیت نے میعار داخلہ مدرسہ احمدیہ، جامعہ احمدیہ کے بارہ میں رپورٹ پیش کی کہ فی الحال تجربہ کے طور پر معیار داخلہ انٹرنس پاس طلباء کا کر دیا جائے اور چند سال کے بعد عملی نتائج کی بناء پر اس سوال پر پھر غور کر لیا جائے۔“ اس تجویز پر اظہار رائے کرتے ہوئے نمائندگان نے دو ترامیم بھی پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : - وو مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے متعلق سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے ( کثرتِ رائے سے) کہ فی الحال تجربہ کے طور پر داخلہ انٹرنس پاس طلباء کا کر دیا جائے اور چند سال کے بعد عملی نتائج کی بناء پر پھر غور کر لیا جائے۔دوستوں کے سامنے مخالف اور موافق دونوں قسم کے خیالات آچکے ہیں۔اب تین صورتیں ہیں۔ا۔سب کمیٹی کی تجویز کہ دسویں پاس طلباء کا داخلہ ہو۔