خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 408

خطابات شوری جلد دوم ۴۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء یہ کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو لوگ مخالفانہ پراپیگنڈا کریں گے کہ سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ یہ لوگ اس واسطے کرتے تھے کہ کل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کریں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا لوگ ہم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو پیش کرتے وقت یہ نہیں کہتے ؟ حالانکہ سیرت کا معاملہ بہت ہلکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا جلسہ ہم کرتے ہیں اس پر ہندو اور عیسائی بھی لیکچر دیتے ہیں، لیکن کیا خاتم النبیین پر بھی کوئی مضمون دینے کو تیار ہوتا ہے؟ اگر سیرت کی وجہ سے یہ رخنہ پیدا ہو گا تو ہمارے دوسرے دلائل کے بیان کرنے سے جو ہم روزانہ پیش کرتے ہیں لوگ کیا کہتے ہیں۔باقی رہا اخراجات کا سوال؟ تو میں اس کی اہمیت نہیں سمجھ سکا کیونکہ اس رپورٹ میں سب کمیٹی نے دو اور جلسوں کی تائید کی ہے، کیا اس پر اخراجات نہیں ہوتے۔جب یوم التبلیغ دو اور بڑھانے کی تجویز کی تھی تو کیا اس پر اخراجات نہیں بڑھتے ؟ پس یہ دونوں دلیلیں غلط ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت شیطان نے ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا کر دیا ہے کہ اس طرح لوگ طعنہ دیں گے۔گو انہوں نے جو کچھ کہا ہے نیکی اور نیک خیال سے کہا ہے کہ اس طرح سے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے جو فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور اس میں لوگ ہماری باتوں کو آ کر سُنتے ہیں اس سے ہم محروم ہو جائیں گے۔میں اس سے پہلے کہہ چکا ہوں کہ ایسے جلسے کئے جائیں جن میں سیرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون بھی آ جائے۔جب ہم نے غیر کو سُنانا ہے تو بہتر ذرائع کیوں نہ اختیار کریں۔پس یہ طریق بہتر ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک ایسا دن مقرر ہو جس میں ہر ایک مذہب اپنے اپنے بانی کی خوبیاں بیان کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس تجویز کو بیان فرمایا ہے۔اس میں سیرت کا پہلو بھی آ جاتا ہے اور عملی طور پر اس طریق سے ہم زیادہ فائدہ اُٹھائیں گے۔ہم جن کی تعریف کریں گے اُن کا زمانہ گزر چکا ہے اور جن کی وہ تعریف کریں گے اُن کا زمانہ ابھی جاری ہے۔ایک پادری اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف کرے گا تو لازماً اس کے اندر ایک سُرنگ لگتی جائے گی۔پس ایسے جلسے زیادہ مفید ہوں گے۔جس صداقت کے ہم خود قائل ہیں دوسروں کو بھی اس کا حق ہے۔ہم کرشن کو مانتے ہیں۔عیسی علیہ السلام کو مانتے ہیں۔اگر وہ ہم کو ان کی تعریف کرنے کو کہیں