خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 407
خطابات شوری جلد دوم ۴۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء جلسہ ہائے سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک تجویز پیتھی کہ ۱۲ سال سے یوم سیرۃ النبی منایا جارہا ہے اور اب وقت ہے کہ یومِ سیرت مسیح موعود بھی منایا جایا کرے“۔سب کمیٹی دعوت وتبلیغ نے اس میں حسب ذیل ترمیم منظور کی کہ فی الحال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کو ہر احمدی جماعت اپنے سالانہ جلسہ کے پروگرام میں شامل کرے اور بجائے سیرت مسیح موعود کا جلسہ علیحدہ منعقد کرنے کے اس ضروری حصہ کو پروگرام کا لازمی حصہ قرار دیا جائے اس سے اخراجات کا بار بھی نہ پڑے گا اور مقصد بھی آسانی سے حاصل ہوگا۔“ بحث کے دوران میں بعض نمائندگان نے اس ترمیم پر تنقید کی تو سب کمیٹی کے ایک ممبر محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے سب کمیٹی کے دفاع میں ایک مختصر تقریر کی۔اس کے بعد حضور نے احباب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - شاہ صاحب نے بہت کچھ مٹی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔لیکن وہ تجویز جو میرے ہاتھ میں ہے اور وہ جس کو سب کمیٹی نے منظور کر کے ہمارے پاس بھجوایا ہے اُس کے اندر کچھ ایسے پھاوڑے ہیں جنہوں نے اس سب مٹی کو کھود دیا ہے۔(اقتباس از رپورٹ سب کمیٹی ) اس تجویز پر خیالات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلسوں میں غیر احمدی مسلمان عام طور پر روک ڈالتے ہیں اور خود بھی ہمارے بالمقابل جلسے کرتے ہیں اور پہلے سے ہی بدنام کرتے ہیں کہ احمدی اپنی تبلیغ کی خاطر یہ جلسے کرتے ہیں اس طرح غلط پراپیگنڈا سے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلسوں کی کامیابی کی راہ میں رخنے ڈالتے ہیں۔اگر ہم سیرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلسے کریں گے تو ان میں کامیابی کی صورت اس سے بہتر متوقع نہیں ہوسکتی جو ہمیں سیرت نبویہ کے جلسوں میں حاصل ہے بلکہ اس کا طبعی نتیجہ یہ ہو گا کہ سیرت النبی کا جلسہ بھی کمزور ہو جائے گا۔کیا بلحاظ مخالفانہ پراپیگنڈا کے اور کیا بلحاظ اخراجات کے“۔سب کمیٹی کی تجویز جو آئی ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ خرچ بہت بڑھ جائے گا۔دوسرے