خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 399
خطابات شوری جلد دوم ۳۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء دو بار ملکہ وکٹوریہ اور غالباً شاہ ایڈورڈ کی جو بلیوں پر چراغاں کرایا۔یا شاید دونوں جو بلیاں ملکہ وکٹوریہ کی ہی تھیں اور مجھے خوب یاد ہے کہ دونوں مواقع پر چراغاں کیا گیا۔چونکہ بچپن میں ایسی باتیں اچھی لگتی ہیں اس لئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسجد مبارک کے کناروں پر چراغ جلائے گئے۔اور بنولے ختم ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آدمی بھیجا کہ جا کر اور لائے۔ہمارے مکان پر بھی ، مسجد میں بھی اور مدرسہ پر بھی چراغ جلائے گئے تھے۔اور میر محمد الحق صاحب نے بھی اس کی شہادت دی ہے اس لئے خالی چراغاں کی مخالفت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میرا عقیدہ ہے کہ حکم و عدل ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآنی نص کے خلاف کوئی بات نہ کرتے تھے اور چراغاں آپ سے ثابت ہے۔اس کے متعلق گواہیاں بھی موجود ہیں اور الحکم میں بھی یہ درج ہے اس لئے خاص چراغاں کے متعلق کسی بحث کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رنگ میں جو خوشی کا اظہار کیا وہ اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے جیسا کہ مومن کی ہر بات اپنے اندر حکمت رکھتی ہے۔چراغاں خصوصاً جب وسیع پیمانہ پر کیا جائے اور ہر گھر میں کرنا ضروری قرار دیا جائے اس پر اتنا خرچ آجاتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اس کا کوئی حقیقی فائدہ نظر نہیں آتا۔ہاں جہاں اس کی ملکی اور سیاسی ضرورت ہو یا جہاں زیادہ روشنی کی ضرورت ہو وہاں اگر کیا بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔جیسا کہ میر صاحب نے حضرت عمرؓ کی طرف سے مسجد میں زیادہ روشنی کے انتظام کی مثال دی ہے۔مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہاں زیادہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ لوگ وہاں قرآن شریف پڑھتے ہیں یا اور دینی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔پس اگر حضرت عمرؓ نے مسجد میں زیادہ روشنی کا انتظام کیا تو اس میں حکمت تھی۔ورنہ جہاں تک ہم دیکھتے ہیں اسلام میں خوشیاں ایسے رنگ میں منائی جاتی ہیں کہ بنی نوع انسان کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔مثلاً عید ہے اس میں قربانی کرنے سے غریبوں کو گوشت ملتا ہے، عیدالفطر پر فطرانہ سے غریبوں کو مدد دی جاتی ہے۔تو اسلام نے جہاں بھی خوشی منانے کا حکم دیا ہے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے ایسے رنگ میں منایا جائے کہ ملک اور بنی نوع انسان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے لیکن چراغاں کی صورت میں کوئی ایسا فائدہ