خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 398
خطابات شوری جلد دوم سے اس کے وقار کو صدمہ پہنچے۔“ ۳۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء جو بلی کے موقع پر چراغاں جویلی کے موقع پر اظہار خوشی کے لئے چراغاں کرنے کی تجویز پیش ہوئی تو حضور نے اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا : - تجویز یہ ہےکہ اس تقریب پر ایک رات معین کر کے قادیان کی تمام مساجد، منارہ مسیح۔مقبره بهشتی، قصر خلافت اور سلسلہ کی دیگر پبلک عمارات پر چراغاں کیا جائے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بعض خوشی کے موقعوں پر ہوا ہے۔یہ چراغاں خوشی کے طبعی اظہار کے علاوہ تصویری زبان میں اس بات کی بھی علامت ہوگا کہ جماعت کی دلی خواہش اور کوشش ہے کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کے نور کو بہتر سے بہتر صورت میں اور جلد سے جلد دنیا کے سارے کناروں تک پہنچائے۔لوگ خود بخود خوشی کا اظہار کریں یہ تو اور بات ہے لیکن یہ کہ ایسا کرنا ضروری قرار دیا جائے یہ ایک علیحدہ بحث ہے اور اس لئے سب سے پہلے میں یہ سوال لیتا ہوں کہ آیا چراغاں کرایا جانا چاہئے یا نہیں؟ محض چراغاں سے بحث نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ملکہ کی جو بلی پر ایسا کرایا۔سوال یہ ہے کہ بعض باتیں جو دنیوی بادشاہوں کے لئے جائز ہو سکتی ہیں وہ کیا دینی لوگوں کے لئے بھی جائز ہو سکتی ہیں؟ اس لئے جو دوست یہ سمجھتے ہیں کہ چراغاں کرنا جائز ہے اور اس موقع پر بھی چاہئے ، وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۴۳۰ دوست کھڑے ہوئے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ:- جو اس کے خلاف ہیں وہ کھڑے ہو جائیں“ تو صرف ۱۳ دوست کھڑے ہوئے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ:۔میں اس معاملہ میں کسی قدر تفصیل اور وضاحت سے بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے چراغاں ثابت ہے۔آپ نے