خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 397

خطابات شوری جلد دوم ۳۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء شعر پڑھے یا سنے۔بناوٹ اور تصنع کی کوئی ضرورت نہیں۔میں نے دیکھا ہے، سیرت النبی کے موقع پر جب دوست جلوس نکالتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اس موقع پر ایسے شعر پڑھے جائیں اور تقریریں کی جائیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ظاہر ہو، ایسے اشعار پڑھتے ہیں جن کا اس موقع کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔جلسہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا ہوتا ہے مگر وہ پڑھتے ہیں ؎ جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ وہ میرزا یہی ہے حالانکہ اس تحریک کی غرض یہ ہے کہ ہندوؤں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان کر کے متاثر کیا جائے اور اُن کے دلوں میں آپ کی رغبت پیدا کی جائے اور ظاہر ہے کہ ایسے موقع پر ایسے اشعار پڑھنے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔یہ تو ایسی ہی ہے کہ کسی کو کہا جائے کہ فلاں شخص سے جا کر صلح کر آؤ اور وہ جا کر اُس کی داڑھی پکڑے، اسے کون صلح کہہ سکتا ہے۔اور جس وقت ہم یہ کوشش کریں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہندوؤں کے قلوب میں رغبت پیدا کی جائے اُس وقت یہ شعر پڑھنا بالکل نا مناسب ہے۔اور پھر لطیفہ یہ ہے کہ یہ اشعار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی نہیں ہیں۔پس اس قسم کے جلوس اسلامی طرز پر نہیں ہوتے بلکہ احرار اور کانگرس کی نقل ہے۔دوست سمجھتے ہیں کہ اس سے فائدہ ہوتا ہے حالانکہ فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوتا ہے۔پھر جلوس میں قطار میں بنا بنا کر چلتے ہیں۔اور فوجی صورت بنانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ جلوس میں شامل ہونے والے سب اس قسم کے نہیں ہوتے کہ اس طرح چل سکیں۔کوئی لاتیں گھسیٹ رہا ہوتا ہے اور کوئی بھاگ رہا ہوتا ہے حالانکہ اگر فوجی صورت ہی بنانی ہو تو چاہئے کہ اُن جیسے ہوں اور یا پھر اپنے رنگ میں ہی چلیں جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تھا لوگ ہجوم بنا کر چلے جاتے تھے لیکن یہاں نہ تو وہ صورت ہوتی ہے اور نہ فوجی۔پس میں سب کمیٹی کی تجویز کو اس شرط پر منظور کرتا ہوں کہ وقار اسلامی کو مدنظر رکھا جائے۔ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے احمدیت کی شوکت کا اظہار ہو اور ایسا نہ ہو جس