خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 384

خطابات شوری جلد دوم ۳۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء ہیں اور دُنیا جلد ہی لڑائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔مجھے کل مشاورت کے اجلاس سے جا کر رات کو ریڈیو پر جو خبریں سننے کا موقع ملا تو وہ یہ تھیں کہ البانیہ پر اٹلی نے حملہ کر دیا ہے۔البانیہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔یورپ میں قوموں کا فریب یہی ہوتا ہے کہ پہلے ایک قوم کو وہ کہتے ہیں کہ تم آزاد ہو جاؤ اور جب وہ آزاد ہو جاتے ہیں تو اُس کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔یہی حال البانیہ کا ہوتا ہے۔اسی طرح پہلے البانیہ کی آزاد حکومت بنائی پھر اس کے سامنے چند شرائط پیش کیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ غلامی والی شرطیں ہیں جس پر اُنہوں نے کہا کہ اچھا تم ہمیں جواب دیتے ہو! بظاہر عیسائی حکومتیں اس معاملہ میں بالکل متوجہ نہیں، کیونکہ یہ ایک مسلمان حکومت ہے۔عام طور پر فرانس اور انگلینڈ والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں۔ہاں ہم اس کو اپنے معاہدہ کے خلاف سمجھتے ہیں۔لیکن میں تو سمجھتا ہوں کہ وہی لڑائی جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی تعلق نہیں کسی نہ کسی طرح اور حکومتوں کو بھی اپنے ساتھ کھینچ لے گی۔مجھے اس موقع پر رہ رہ کر اُس خواب کا خیال آتا ہے جو میری چھوٹی لڑکی امتہ الباسط نے دیکھی تھی، اُس وقت ہر طرف یہی شور تھا کہ اب کوئی جھگڑا باقی نہیں رہا۔میونخ کے معاہدہ کے بڑے گیت گائے جاتے تھے۔میری لڑکی نے دیکھا کہ ایک بزرگ آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تمہارے ماموں کے لڑکے پاس ہو جائیں گے۔چنانچہ یہ خواب پوری ہو گئی حالانکہ لڑکے کلاس میں کمزور تھے لیکن پھر بھی کامیاب ہو گئے۔پھر کچھ مدت کے بعد اُس نے اُن بزرگ کو دیکھا جنہوں نے بتایا تھا کہ تمہارے ماموں کے لڑکے پاس ہو جائیں گے اور اُنہوں نے کہا کہ اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ۱۳ / اپریل کو پھر لڑائی شروع ہو جائے گی۔میں نے یہ رویا بعض غیر مذاہب والوں اور ہندوؤں وغیرہ کو سنائی اور وہ اس کوشن کر حیران ہوتے تھے۔ممکن ہے کہ اسی البانیہ کے معاملہ سے ہی ایک عام جنگ چھڑ جائے۔گواس دن جنگ نہیں چھڑی۔لیکن ۱۳ / اپریل کو انگریزوں نے وہ بیان شائع کیا ہے جس کی بناء پر اگر آئندہ جرمنی، اٹلی نے کوئی حملہ کیا تو جنگ شروع ہو جائے گی۔گویا اس طرح وہ خواب پوری ہو گئی۔بہر حال حالات جلدی جلدی متغیر ہو رہے ہیں اور ان حالات میں میں جماعت کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی حالت کو سمجھیں۔ہمارے لئے تبلیغی کام