خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 383

۳۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء ނ خطابات شوری جلد دوم اب تو بہت کچھ اس میں اصلاح ہو چکی ہے۔میں اس سال خصوصاً اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ شوریٰ کے فیصلوں کی تعمیل کی جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی وہ خیال رکھیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک قانون کی پابندی پورے طور پر نہ کرائی جائے اُس وقت تک کوئی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ عام لوگوں میں سے پچانوے فیصدی ایسے ہیں کہ جو اس نقص میں ملوث ہیں جیسا کہ میرے خطبوں سے بھی ظاہر ہے اور شاذ و نادر ہی ایسے آدمی ہیں جو اس سے بچے ہوئے ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ قانون کو بدلوائے بغیر اس کا توڑنا جائز نہیں لیکن مجھے جن لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اُن میں بہت کم اس سے مستثنی ہیں۔ہندوستانیوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ یا تو کسی چیز پر عمل کریں یا پھر اس کو بدلوائیں۔جس کو وہ کہتے ہیں کہ اس پر عمل نہیں ہو سکتا میرے نزدیک وہ محض نفس کا دھوکا ہوتا ہے کیونکہ ” نہ ہوسکنا اور مشکل امر میں فرق ہے۔نہ ہوسکنا کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا قانون یہ ہے کہ فلاں بات نہیں ہو سکتی لیکن کہنے والوں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں ایسی مجبوری تھی کہ وہ اس کو نہ کر سکے۔اُن کے نزدیک تو معمولی محنت والی بات بھی ناممکنات میں داخل ہو جاتی ہے، حالانکہ جو ناممکن ہے اُس کے متعلق تو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کو کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ہندوؤں کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن مسلمانوں سے چونکہ مجھے واسطہ پڑتا ہے اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہر مشکل امر کو ناممکن قرار دینے کے عادی ہوتے ہیں ، وہ ہر بات کو ٹالتے ہیں مگر یہ بات قومی لحاظ سے نہایت ہی خطرناک ہے۔پس جہاں میں نظارت کو توجہ دلاتا ہوں وہاں لوگوں کو بھی اس امر کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے کل خطبہ میں بھی کہا تھا وہ اس نقص کو دور کریں۔جس کام کو روزانہ کیا جاتا ہے اُس کے متعلق بھی شستی کر کے یہ کہنا کہ یہ بات ہو ہی نہیں سکتی بالکل غلط ہے حالانکہ مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کے کرنے میں ہم کو وقت ہے۔اس کے بعد جو دوسری کارروائی ہے اس کے شروع کرنے سے پہلے میں جماعت کو پھر کل والے مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں، کیونکہ اب حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں کہ ہماری جماعت کو بہت سنبھلنے کی ضرورت ہے۔خصوصیت سے ان چند دنوں میں تو بہت سی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔میں نے کل ذکر کیا تھا کہ دُنیا میں بہت جلد جلد تغیرات پیدا ہو رہے