خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 372

۳۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم میں ہم دشمن کے حملہ سے محفوظ ہو جائیں گے کوئی اعلیٰ خیال نہیں۔مومن کا فرض ہے کہ وہ ہر کام کے کرتے وقت اعلی نیتیں اور اعلیٰ ارادے پیدا کرے اور ہما را اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کریں اور بندوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر دیں اور یہی مقصد ہمیں تبلیغ میں بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔میں نے پچھلے سالوں میں متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ دُنیا میں عظیم الشان تغیرات قریب ترین عرصہ میں رونما ہونے والے ہیں، بلکہ اسی مجلس شوری کے ایک اجلاس میں چند سال ہوئے میں نے کہا تھا کہ دس سال کے اندر اندر اس بات کا فیصلہ ہو جانے والا ہے کہ کون سی قوم زندہ رہے اور کس کا نام ونشان مٹ جائے۔اور اب آپ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دُنیا کس طرح عظیم الشان تغیرات کے قریب تر ہوتی چلی جارہی ہے، یہاں تک کہ یورپ کے لوگ بھی اب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر جنگ ہوئی تو موجودہ یورپ بالکل تباہ ہو جائے گا۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جب یورپ تباہ ہو گیا تو پھر نئی طاقتیں پیدا ہوں گی اور نئی حرکتیں ظہور میں آئیں گی اور ان نئی حرکتوں اور نئی طاقتوں کے ظہور کے وقت احمدیت کی ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ ایک نیا راستہ پیدا کرے گا کیونکہ جب عمارتیں گرائی جاتی ہیں تو ان کی جگہ نئی عمارتیں بنائی بھی جاتی ہیں۔پس ہمارے لئے آج بہت ہی نازک وقت ہے۔باقی قوموں کے لئے اتار چڑھاؤ کا سوال ہے۔اُن کے لئے صرف اتنا ہی سوال ہے کہ وہ بڑھیں گے یا گھٹیں گے کیونکہ جس طرح دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے، اسی طرح ان قوموں کی زندگی میں اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔مگر ہمارے لئے اُتار چڑھاؤ کا سوال نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔جو قومیں ایک دفعہ ترقی کر چکیں اُن کے لئے تنزل کا خیال بھی آجاتا ہے اور جو قو میں تنزل میں گری ہوئی ہوں اُن کے لئے یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ترقی کریں۔اور جو قو میں ترقی کر رہی ہوں ان کے لئے یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ کس طرح پہلی ترقی سے بھی زیادہ ترقی حاصل کریں۔غرض مختلف قوموں کے سامنے مختلف سوالات ہوتے ہیں مگر ہمارا کام بالکل نیا ہے۔وہ کسی بنی بنائی چیز پرمبنی نہیں کہ اگر اس میں تغیر ہوا تو ہمارے اندر بھی تغیر آ جائے گا بلکہ ہم