خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 368

۳۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم کہ میں کیا کروں؟ میں نے اُسے کہا کہ تم چین میں چلے جاؤ۔چنانچہ وہ چین گیا اور چلتے وقت اُس نے ایک اور لڑکے کو بھی جس کا نام محمد رفیق ہے اور ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا ہے تحریک کی کہ وہ ساتھ چلے۔چنانچہ وہ بھی ساتھ تیار ہو گیا۔اُس کے چونکہ رشتہ دار موجود تھے اور بعض ذرائع بھی اسے میسر تھے اس لئے اُس نے کوشش کی اور اسے پاسپورٹ مل گیا۔جس وقت یہ دونوں کشمیر پہنچے تو محمد رفیق تو آگے چلا گیا مگر عدالت خاں کو پاسپورٹ کی وجہ سے روک لیا گیا اور بعد میں گاؤں والوں کی مخالفت اور راہ داری کی تصدیق نہ ہو سکنے کی وجہ سے وہ کشمیر میں ہی رہ گیا اور وہاں اس انتظار میں بیٹھ رہا کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں نظر بچا کر چین چلا جاؤں گا مگر چونکہ سردیوں کا موسم تھا اور سامان اُس کے پاس بہت کم تھا اس لئے کشمیر میں اسے ڈبل نمونیہ ہو گیا اور دو دن بعد فوت ہو گیا۔ابھی کشمیر سے چند دوست آئے ہوئے تھے اُنہوں نے عدالت خاں کا ایک عجیب واقعہ سنایا جسے سن کر رشک پیدا ہوتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کے متعلق اسے کتنا یقین اور وثوق تھا۔وہ ایک گاؤں میں بیمار ہوا تھا جہاں کوئی علاج میسر نہ تھا۔جب اس کی حالت بالکل خراب ہو گئی تو اُن دوستوں نے سنایا کہ وہ ہمیں کہنے لگا کسی غیر احمدی کو تیار کرو جو احمدیت کی صداقت کے متعلق مجھ سے مباہلہ کر لے۔اگر کوئی ایسا غیر احمدی تمہیں مل گیا تو میں بچ جاؤں گا اور اُسے تبلیغ بھی ہو جائے گی ورنہ میرے بچنے کی اور کوئی صورت نہیں۔شدید بیماری کی حالت میں یہ یقین اور وثوق بہت ہی کم لوگوں کو میسر ہوتا ہے کیونکہ ننانوے فیصدی اس بیماری سے مر جاتے ہیں اور بعض تو چند گھنٹوں کے اندر ہی وفات پا جاتے ہیں۔ہماری مسجد مبارک کا ہی ایک موذن تھا وہ عصر کے وقت بیمار ہوا اور شام کے وقت فوت ہو گیا۔ایسی خطرناک حالت میں جبکہ اُس کی موت یقینی کا ننانوے فیصدی یقین کیا جا سکتا تھا اُس نے اپنا علاج یہی سمجھا کہ کسی غیر احمدی سے مباہلہ ہو جائے اور اُس نے کہا کہ اگر مباہلہ ہو گیا تو یقیناً خدا مجھے شفا دے دے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ میں اس مرض سے مرجاؤں۔بہر حال اس واقعہ سے اُس کا اخلاص ظاہر ہے۔اسی طرح اُس کی دوراندیشی بھی ثابت ہے کیونکہ اُس نے ایک اور نوجوان کو خود ہی تحریک کی کہ میرے ساتھ چلو اور وہ تیار ہو گیا۔اس طرح گو عدالت خاں فوت ہو گیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اُس کے بیج کو ضائع