خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 367
خطابات شوری جلد دوم ۳۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خرید کر اپنے علاقہ کی طرف گئے تو انہیں کے چچا زاد بھائی اور سالہ نے ان پر گولیوں کے متواتر تین چار فائر کر کے انہیں شہید کر دیا۔اسی طرح ایک اور نوجوان جو اس تحریک کے ماتحت چین میں گئے تھے وہ بھی فوت ہو گئے ہیں اور گوان کی وفات طبعی طور پر ہوئی ہے مگر ایسے رنگ میں ہوئی ہے کہ وہ موت اپنے اندر شہادت کا رنگ رکھتی ہے۔چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا مجھے ایسے حالات معلوم ہوئے جن سے پتہ لگتا ہے کہ واقعہ میں اُس کی موت معمولی موت نہیں بلکہ شہادت کا رنگ لئے ہوئے ہے۔اس نوجوان نے بھی ایسا اخلاص دکھایا جو نہایت قابل قدر ہے۔سب سے پہلے ۱۹۳۴ء میں جب میں نے یہ تحریک کی اور اعلان کیا کہ نو جوانوں کو غیر ممالک میں نکل جانا چاہئے تو یہ نو جوان جو غالباً دینیات کی متفرق کلاس میں پڑھتا تھا اور عدالت خان اس کا نام تھا، تحصیل خوشاب ضلع شاہ پور کا رہنے والا تھا، میری اس تحریک پر بغیر اطلاع دیئے کہیں چلا گیا۔قادیان کے لوگوں نے خیال کر لیا کہ جس طرح طالب علم بعض دفعہ پڑھائی سے دل برداشتہ ہو کر بھاگ جایا کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی بھاگ گیا ہے۔مگر دراصل وہ میری اس تحریک پر ہی باہر گیا تھا مگر اس کا اس نے کسی سے ذکر تک نہ کیا۔چونکہ ہمارے ہاں عام طور پر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید اور دوسرے شہداء کا ذکر ہوتا رہتا ہے اس لئے اُسے یہی خیال آیا کہ میں بھی افغانستان جاؤں اور لوگوں کو تبلیغ کروں۔اُسے یہ بھی علم نہیں تھا کہ غیر ملک میں جانے کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اُسے پاسپورٹ مہیا کرنے کے ذرائع کا علم تھا۔وہ بغیر پاسپورٹ لئے نکل کھڑا ہوا اور افغانستان کی طرف چل پڑا۔جب افغانستان میں داخل ہوا تو چونکہ وہ بغیر پاسپورٹ کے تھا اس لئے حکومت نے اُسے گرفتار کر لیا اور پوچھا کہ پاسپورٹ کہاں ہے؟ اُس نے کہا کہ پاسپورٹ تو میرے پاس کوئی نہیں۔انہوں نے اسے قید کر دیا مگر جیل خانہ میں بھی اُس نے قیدیوں کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔کوئی مہینہ بھر ہی وہاں رہا ہوگا کہ افسروں نے رپورٹ کی کہ اسے رہا کر دینا چاہئے ورنہ یہ قیدیوں کو احمدی بنالے گا۔چنانچہ انہوں نے اس کو ہندوستان کی سرحد پر لاکر چھوڑ دیا۔جب وہ واپس آیا تو اُس نے مجھے اطلاع دی کہ میں آپ کی تحریک پر افغانستان گیا تھا اور وہاں میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔اب آپ بتائیں