خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 366

۳۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم مظاہرہ کے ذریعہ دُنیا کے سامنے ہماری جماعت کے نوجوانوں نے اپنے اخلاص کا نہایت شاندار نمونہ پیش کیا ہے لیکن چونکہ کام میں مہارت ایک لمبی تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوسکتی ہے، اس لئے آئندہ کے لئے ان نوجوانوں کی تعلیم کا خاص طور پر انتظام کیا گیا ہے جنہوں نے اس تحریک پر اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کی ہیں۔گو کام کے لحاظ سے ہمیں پہلے جتھا کے افراد کی تبلیغی کوششوں کے نتیجہ میں بعض جگہ اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی کامیابی کی ہمیں توقع تھی مگر پھر بھی بعض جگہ خاصی کامیابی ہوئی ہے۔دو شہداء کا ذکر بلکہ قریب ترین عرصہ میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں نے اپنے اخلاص کا نہایت قابلِ رشک مظاہرہ کیا ہے اور وہ یہ کہ ان چھپیں تھیں نوجوانوں میں سے جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں ایک نوجوان تھوڑا ہی عرصہ ہوا ، غالباً پندرہ بیس دن یا مہینہ کی بات ہے کہ محض احمدیت کی تبلیغ کی وجہ سے اپنے علاقہ میں مارے گئے ہیں۔اس نوجوان کا نام ولی داد تھا اور اس نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی تھی افغانستان کے علاقہ میں ہم نے انہیں تبلیغ کے لئے بھجوایا تھا۔کچھ طب بھی جانتے تھے اور معمولی امراض کے علاج کے لئے دوائیاں اپنے پاس رکھتے تھے۔کچھ مدت تک ہم انہیں خرچ بھی دیتے رہے مگر پھر ہم نے انہیں خرچ دینا بند کر دیا تھا۔اُن کی اپنی بھی یہی خواہش تھی اور میں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ اس علاقہ میں طب شروع کر دیں اور آہستہ آہستہ جب لوگ مانوس ہو جائیں تو اُنہیں تبلیغ احمدیت کی جائے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایسے مواقع بہم پہنچا دیئے کہ اُنہوں نے اس علاقہ میں لوگوں کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔گھلی تبلیغ سے تو ہم نے خود انہیں روکا ہوا تھا کیونکہ یہ وہاں قانون کے خلاف ہے۔آہستہ آہستہ وہ تبلیغ کیا کرتے اور لوگوں کو نصیحت کیا کرتے کہ جب کبھی پنجاب میں جایا کرو تو قادیان بھی دیکھ آیا کرو۔رفتہ رفتہ جب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ احمدی ہے تو اُنہوں نے گھر والوں پر زور دینا شروع کر دیا کہ تمہیں اس فتنہ کے انسداد کا کوئی خیال نہیں تمہارے گھر میں کفر پیدا ہو گیا ہے اور تم اس سے غافل ہو۔چنانچہ انہیں اس قدر برانگیختہ کیا گیا کہ وہ قتل کے درپے ہو گئے۔مولوی ولی دادخان چند دن پہلے ہندوستان میں بعض دوائیاں خریدنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔جب دوائیاں