خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 365

خطابات شوری جلد دوم ۳۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء یہ چار باتیں ایسی ہیں کہ اگر ہماری جماعت ان کی طرف پورے طور پر توجہ کرے تو یقیناً تھوڑے ہی عرصہ میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہوسکتا ہے۔مدتوں سے میری یہ رائے ہے کہ اگر ایک طرف ہماری جماعت کے کاموں کی بنیاد مالی قربانی کی بجائے جانی قربانی پر رکھی جائے تو دوسری طرف مالی قربانی کے اس حصہ کو جو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مستقل صورت دے دی جائے اور کوئی ایسا فنڈ قائم کر دیا جائے جس کی آمد سے مستقل تبلیغی ضروریات پوری ہوتی رہیں تو تبلیغی میدان میں ہمیں بہت کچھ سہولتیں میسر آ سکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی روک ہمارے قدم کو شست نہیں کر سکتی۔جانی قربانی کے لئے میں نے وقف زندگی کی تحریک کی واقفین زندگی کی قربانیاں با ہوئی ہے جس کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے نو جوانوں کی ایک اچھی خاصی جماعت نے اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر دی ہیں۔مالی قربانیوں کے لئے ہر سال مالی تحریک کی جاتی ہے جس کے متعلق آخری فیصلہ میں نے یہ کیا ہے کہ مالی قربانی کے ان مطالبات کو دس سال تک ممتد کر دیا جائے۔جس میں سے پانچواں سال اب گزر رہا ہے اور پانچ سال ابھی باقی رہتے ہیں۔اس عرصہ میں انشاء اللہ تعالیٰ ایک ایسا فنڈ قائم ہو جائے گا جس سے ہماری تبلیغ مالی خطرات سے بالکل آزاد ہو جائے گی اور ملک کی اقتصادی حالت میں جو روزانہ کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور جس کے نتیجہ میں آمد میں اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، اس کے بُرے اثرات سے ہماری جماعت محفوظ ہو جائے گی۔جانی قربانی کے سلسلہ میں مبلغین کا ایک جتھا مختلف ممالک میں جا چکا ہے لیکن وہ ایک ایسا جتھا تھا جس کی خاص طور پر تعلیم و تربیت نہیں کی گئی تھی ، بہر حال اس کے ذریعہ ہمیں غیر ممالک کا اچھا خاصہ تجربہ ہو گیا ہے۔اس جتھا کے افراد میں بعض کمزوریاں بھی معلوم ہوئی ہیں کیونکہ ان میں اکثر ایسے تھے جو دینی تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔اور اگر کسی کو دینی تعلیم تھی تو دنیوی تعلیم کے لحاظ سے وہ کمزور تھا لیکن بہر حال یہ ایک مظاہرہ تھا جماعتی قربانی کا ، اور یہ ایک مظاہرہ تھا اس بات کا کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ جب بھی خدا تعالی کی آواز ان کے کانوں میں آئے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اعلاء کلمہ اسلام کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔اس۔