خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 346
۳۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم ایک احراری ہمارے ناظر سے اچھا چلتا ہے۔جس کی وجہ یہی ہے کہ لاہور میں رہنے کی وجہ سے اور ایسی سوسائٹیوں اور مجالس میں آنے جانے کی وجہ سے جن میں ہر وقت سیاسی امور کا تذکرہ رہتا ہے، وہ سیاست سے زیادہ آگاہ ہوتا ہے لیکن ہمارے ناظر کو چونکہ اس کا موقع نہیں ملتا اس لئے وہ ان امور سے ناواقف ہوتا ہے۔اگر ہم اپنے آدمیوں کو موقع دیں اور کہیں کہ وہ ایسی کمیٹیوں میں شامل ہو جائیں اور ان کے ممبر بنیں تو تجربہ سے اُنہیں بھی وہ تمام باتیں معلوم ہوسکتی ہیں جو دوسروں کو معلوم ہیں۔بلکہ اگر اپنی قابلیت اور لیاقت سے کام لیں تو اُن سے بڑھ بھی سکتے ہیں۔مختلف علوم کے ماہر تیار کرنے کی سکیم عوض میری تعلیم یہ ہے کہ اپنی جماعت کے مختلف افراد کو مختلف علوم کا ماہر بنایا جائے اور بیرونی ممالک میں بھیج کر انہیں اس بات کا موقع دیا جائے کہ وہ اپنے علوم کو بڑھا ئیں تا جس وقت وہ واپس آئیں تو لوگوں پر ان کی علمی قابلیت کا اثر ہو۔ابھی گزشتہ دنوں مولوی محمد سلیم صاحب اور مولوی ابو العطاء صاحب کے مدرسہ میں لیکچر ہوئے ہیں اور بڑے کامیاب ہوئے ہیں مگر یہ لیکچر اس لئے کامیاب نہیں ہوئے کہ یہ احمدی مبلغ تھے بلکہ اس لئے کامیاب ہوئے ہیں کہ مولوی محمد سلیم صاحب ابھی شام سے آئے تھے اور اُنہوں نے فلسطین کے حالات بیان کئے تھے۔اور مولوی ابوالعطاء صاحب بھی کچھ عرصہ وہاں رہ چکے تھے اور طبعا لوگوں کو یہ اشتیاق ہوتا ہے کہ وہ غیر ملک سے آئے ہوئے ھو ئے شخص کو دیکھیں اور اس کی باتیں سنیں۔پس ان کا بیرونی ملکوں کا قیام ان کی مقبولیت کا موجب ہوا اور ساتھ ہی سلسلہ کے تبلیغی میدان کو وسیع کرنے کا موجب ہوا۔پس میرا منشاء یہ ہے کہ اپنی جماعت کے بعض افراد کو غیر ممالک میں تحصیل علم کے لئے بھیجا جائے مگر یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب ان کو بھیجتے وقت ہمارا دل نہ دھڑ کے کہ خبر نہیں اب ان کی قیمت ڈیڑھ سو بنتی ہے یا اڑھائی سو بنتی ہے مگر جب ہمیں یقین ہو کہ ان کی قیمت پندرہ روپے ہی رہے گی تو ہم انہیں کہیں گے جاؤ اور دنیوی علوم میں خواہ افلاطون بھی بن جاؤ یا دینی علوم میں عبدالرحمن بن جوزی یا سیوطی بن جاؤ، ہم تمہیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھا ئیں گے۔مگر یہ یاد رکھو کہ تمہیں با وجود افلاطون یا عبدالرحمن بن جوزی یا سیوطی بن جانے کے پندرہ روپے ہی ملیں گے اس سے