خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 328

۳۲۸ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہے کہ چندہ دیا اور بستروں پر پڑ کر سور ہے حالانکہ ہمارے خلاف مخالفت کا ایک وسیع جال پھیلایا جا رہا ہے۔عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں اس قدر نفرت پیدا کی جارہی ہے کہ بالکل ممکن ہے وہ کسی وقت ایسا رنگ اختیار کر لے کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ احمدی بُرے ہوتے ہیں بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ احمدیت بُری چیز ہے۔تب ہمارا فرض ہوگا کہ ہم دنیا کو بتا دیں کہ ہم قربانیاں کرنے والے ہیں اور ہم میں وہ تمام اخلاق فاضلہ موجود ہیں جو کسی بلند سے بلند تر قوم میں پائے جانے ضروری ہوتے ہیں۔اور یہ کہ جو ہم پر جھوٹ کا الزام لگاتا ہے وہ خود جھوٹا ہے۔جو ہمیں مکار اور فریبی کہتا ہے وہ خود دھوکا باز ہے۔اور جو ہماری طرف کوئی بدی منسوب کرتا ہے وہ خود بدکار ہے۔لیکن ہماری جماعت کو یہ دو باتیں ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئیں۔ایک یہ کہ شریعت اور قانون کو نہیں توڑنا اور دوسرے یہ کہ ہمیشہ ان قربانیوں کے لئے تیار رہنا جو نبیوں کی جماعتیں کیا کرتی ہیں اور جو انسانی ذہنیت کو بالکل بدل دیتی ہیں۔قربانیوں کا سبق دہراتے جاؤ پس میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے یہاں بہت سی باتیں سنیں اور اب آپ اپنی اپنی جگہ واپس جائیں گے۔آپ لوگوں کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آپ اپنی جماعتوں کے نمائندے ہیں اور نمائندے کی حیثیت ایک ستون کی سی ہوتی ہے اور جماعت کی حیثیت چھت کی سی۔پس چونکہ آپ لوگ ستون ہیں اس لئے ضروری ہے کہ آپ لوگ اپنی جماعتوں میں جا کر ان خیالات کو پھیلائیں اور پھیلاتے چلے جائیں۔مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگ صرف اتنا ہی کافی سمجھتے ہیں کہ ایک دفعہ بات کسی دوسرے کو سُنا دی حالانکہ یہ باتیں ایسی ہیں کہ اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، سوتے جاگتے اور کھاتے پیتے ہر وقت اور ہر لمحہ اپنی بیویوں، اپنے بچوں، اپنے دوستوں، اپنے عزیزوں اور اپنے رشتہ داروں کے کانوں میں ڈالنی چاہئیں اور اُنہیں اِن باتوں پر راسخ اور مضبوط کرنا چاہئے کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے اور خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتیں مشکلات کے بغیر ترقی نہیں کرتیں۔پس ان باتوں کو دُہراؤ اور دُہراتے چلے جاؤ۔یہاں تک کہ یہ باتیں تمہارا ور د اور وظیفہ بن جائیں۔اور اگر ایک چھوٹے بچے سے بھی