خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 327
خطابات شوری جلد دوم ۳۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء موقع آئے جھوٹ بول سکتے ہیں۔آخر یہ کب تک جماعت پر بحیثیت جماعت الزام لگائیں گے اور کب تک ہم ان باتوں کو سن کر صبر کرتے چلے جائیں گے۔بیشک ہم صبر بھی کریں گے اور ان کے طعنوں اور گالیوں کو برداشت بھی کریں گے مگر ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب اس قسم کے متواتر الزامات سے سچائی مشتبہ ہونے لگ جائے ، جب ہماری تبلیغ کے راستہ میں خطرناک روکیں پیدا ہو جائیں ، تب وقت ہوگا کہ اپنے لئے نہیں، خدا تعالیٰ کے لئے جماعت سے کہا جائے گا کہ آؤ اور قربانیاں کرو اور حکومت کو مجبور کرو کہ وہ اس ظلم کی اصلاح کرے۔اور جب تک وہ ایسا نہ کرے تم سلسلہ کی عزت اور اس کے ناموس کے تحفظ کے لئے قربانیاں پیش کرتے چلے جاؤ اور ثابت کر دو کہ تم بے غیرت نہیں ہو۔مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ابھی سے اپنی ذہنیت کو تبدیل کر لیں۔صبر اور برداشت کی تلقین پس میں اس وقت تمہیں کسی خاص قربانی کے لئے نہیں بلا تا۔میں کہتا ہوں تم صبر کرو اور برداشت سے کام لو۔مگر اپنی ذہنیت یہی رکھو کہ تم نے شریعت اور قانون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے خدا اور اُس کے رسول کے لئے موت قبول کرنی ہے۔بے شک بعض ایسے مواقع پر بھی تمہیں جوش آ سکتا ہے جب اُس جوش کا دکھانا شریعت اور قانون کے لحاظ سے درست نہ ہو۔مگر اس وقت تمہارا فرض یہی ہے کہ تم صبر کرو کیونکہ تمہارے لئے شریعت اور قانون کی پابندی کرنا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص کسی غیر حکومت میں رہتے ہوئے جوش میں آکر کسی کو مار دیتا ہے تو یقیناً وہ شریعت کے خلاف چلتا ہے۔پس جان دینے کے یہ معنے نہیں کہ تم دشمن کو مارو بلکہ جان دینے کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے حقوق کے لئے ایسی مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ کہ اگر دشمن تمہیں مارنے کے لئے تیار ہو جائے تو تم موت کو قبول کر لو۔پس کسی دوسرے کی موت نہیں بلکہ تمہاری اپنی موت سلسلہ اور اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ ایسے مواقع پر بعض لوگ اس طرح غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ وہ شریعتِ اسلام کے خلاف چل پڑتے ہیں اور دشمن پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اس طرح نہ صرف وہ خود ایک خلاف رسول فعل کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی نفرت کے جذبات پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کا کام بس اتنا ہی