خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 320
۳۲۰ 16 مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم اور اٹلی میں بھی ہیں اور ایشیا کے بعض مقامات میں بھی۔ان کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کیا کیا تکالیف تھیں جو اُنہوں نے اُٹھا ئیں۔وہیں وہ رہے اور وہیں اُن کی قبریں ہیں وہاں اُن کے جو گر جے ہیں اُن میں کوئی مشر کا نہ بات نظر نہیں آتی اور اس بات کو خود عیسائی مؤرخین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پرانے آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء عیسائیت میں وہ مشرکانہ باتیں رائج نہیں تھیں جو آج رائج ہیں۔اسی طرح جو کتبے ملے ہیں اُن پر جو تحریریں لکھی ہوئی ہیں ان میں بھی زیادہ تر زور انجیل پر نہیں بلکہ تو رات کے واقعات پر دیا گیا ہے۔غرض ان لوگوں میں کوئی شرک کی بات نہیں تھی۔وہ توحید کی تعلیم لے کر کھڑے ہوئے تھے۔مگر جب لوگوں کی طرف سے اُن پر پے در پے مظالم کئے گئے تو وہ غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ انسان جب اُن غاروں میں جاتا ہے تو اُسے کہیں یہ لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ یہاں خدا کے وہ سات بندے مدفون ہیں جو اُس کے مسیح پر ایمان لائے اور جو چُھپ کر یہاں عبادت کرتے رہے مگر کسی طرح رومی حکومت کو پتہ لگ گیا اور اُس نے اِن سب کو قتل کر دیا۔اور کہیں یہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہاں میری پیاری بہن دفن ہے جو اس جگہ کی آب و ہوا برداشت نہ کر کے مرگئی جب کہ ہم کافروں کے ظلم سے تنگ آکر ان غاروں میں چھپے ہوئے تھے۔غرض اس قسم کے سینکڑوں کتبے وہاں موجود ہیں۔تعجب یہ ہے کہ اُنہوں نے زمین میں اتنی اسی فٹ گہرے گڑھے کھو دے اور وہاں اپنی زندگی کے دن گزارے۔یہ غاریں بیس بیس میل تک لمبی چلی جاتی ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں لوگ ان غاروں میں رہے اور مہینوں اندر رہے بلکہ ایک دفعہ تو اُنہیں تھوڑے تھوڑے عرصہ کے وقفے سے سات سال تک اندر رہنا پڑا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل کیا اور روم کا بادشاہ عیسائی ہو گیا اور پھر وہ تکالیف جاتی رہیں جو پہلے انہیں پہنچا کرتی تھیں۔غرض انہوں نے ایسی ایسی تکالیف برداشت کی ہیں کہ اگر ہم ان واقعات کو یا درکھیں تو یقیناً اپنی قربانیوں پر شرمندہ ہوں۔مگر ہمارے مبلغ ان تمام قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہہ دیا کرتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھیوں کو کیا پوچھتے ہو، اُن میں سے ایک نے مسیح پر لعنت بھیجی اور باقی سب صلیب کے وقت بھاگ گئے۔مگر وہ عظیم الشان قربانیاں وہ بھول جاتے ہیں جو سالہا سال تک عیسائیت نے کیں۔