خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 319
خطابات شوری جلد دوم ۳۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء طوفان آیا اور پھر ہٹا تو میں نے اپنی بیوی مریم بیگم کو مخاطب کر کے کہا الحمد لله مریم دیکھو میرا خواب پورا ہو گیا۔پانی کم ہو رہا ہے اور وہ دیکھو روشنی نظر آ رہی ہے۔جب میں آخری بات کہتا ہوں کہ الحمد للہ میرا خواب پورا ہو گیا تو وہ لوگ جو میرے سامنے ہیں وہ بھی الْحَمْدُ یتو یا الله اَكْبَرُ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ آدمی جو اس بکروں والی گاڑی میں بیٹھا تھا، گاڑی ہانک کر چلا گیا۔خواب میں میں نے یہ بھی دیکھا کہ جس وقت میں نے اپنا رویا سنانا شروع کیا تو مولوی محمد علی صاحب وہاں سے ہٹ کر دوسری طرف چلے گئے لیکن مولوی صدر الدین صاحب کھڑے رہے۔مگر ذرا ہٹ کر لیکن وزیر آباد کا جو پیغامی تھا وہ اُسی جگہ رہا اور میرے سامنے کھڑا رہا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس خواب سے متاثر ہے۔چنانچہ میرے یہ کہنے پر کہ الْحَمْدُ لله میرا خواب پورا ہو گیا جو لوگ الحمد لله یا الله اَكْبَرُ کا نعرہ بلند کرتے ہیں اُن میں وہ وزیر آباد کا پیغامی بھی شامل ہے۔تو یہ اور اس قسم کے اور بہت سے اشارات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی طوفان آنے والے ہیں۔ممکن ہے بعض طوفان ظاہری شکل میں ہوں اور بعض طوفان مشکلات و ابتلاؤں کی صورت میں ظاہر ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ جب کبھی انبیاء کی جماعتیں کھڑی ہوئی ہیں وہ کبھی اس طرح کمال کو نہیں پہنچیں جس طرح ہم اس وقت کام کر کے کمال حاصل کرنا چاہتے ہیں۔مسیح ناصری کے حواریوں کی قربانیاں حضرت مسیح ناصری کی جماعت نے ترقی کی اور بہت بڑی ترقی کی مگر ان عظیم الشان قربانیوں کے بعد جن کا تصور کر کے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔بعض پرانی تاریخیں جو آجکل نکلی ہیں ان کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آجکل لوگ ہمیں مرزائی کہتے ہیں اسی طرح مسیح ناصری کے حواریوں کو فقیر کہا جاتا تھا گویا انہیں اتنی قربانیاں کرنی پڑیں ، اتنی قربانیاں کرنی پڑیں کہ لوگوں نے ان کا نام ہی فقیر رکھ دیا۔روم کے پاس میں نے وہ کٹا کومبز (CATACOMBS) دیکھی ہیں جن میں حضرت مسیح کے متبعین کو ایک لمبا عرصہ رہنا پڑا۔یہ زمین دوز غاریں مختلف مقامات میں ہیں۔اسکندریہ میں بھی ہیں