خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 318
۳۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم تھا۔اتنے میں میں دیکھتا ہوں کہ وہ عورت لیٹ گئی اور اس نے بیقراری ظاہر کرنی شروع کر دی جیسے گرمی لگی ہوئی ہوتی ہے اور خود بخود دھتہ پرے پھینک دیا۔میں نے دیکھا کہ وہ دھتہ آپ ہی تہہ ہو گیا اور میں نے اُٹھا کر اور کسی جگہ رکھ دیا۔اس عورت کے متعلق اس وقت مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ اب مرگئی ہے یا مرنے والی ہے۔اس وقت اس کے پاس اس کی ساس یا ماں جو بھی ہے آکر بیٹھ گئی ہے۔اتنے میں میں باہر آجاتا ہوں۔جہاں مجھے اپنی جماعت کے بہت سے دوست ملتے ہیں۔کچھ ہندو اور کچھ پیغامی بھی ہیں۔مولوی محمد علی صاحب اور مولوی صدرالدین صاحب مجھے خاص طور پر یاد ہیں۔اور ایک اور پیغامی بھی مجھے یاد ہے جس کے متعلق رویا میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ وزیر آباد کا ہے اور اچھا تاجر ہے۔پھر میں نے ایک اور شخص کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہے اور اس کے پاس ایک گاڑی ہے جو اُس گاڑی سے ذرا بڑی ہے جو بچوں کے لئے ہوتی ہے۔اور تین بکرے بھی کھڑے ہیں جن میں دو اس گاڑی میں بجتے ہوئے ہیں۔مجھے خیال پڑتا ہے کہ اُس جگہ میں نے بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو بھی جماعت کے لوگوں میں سے دیکھا۔جولوگ وہاں کھڑے ہیں میں ان کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ دیکھو یہ پانی کا طوفان میرے خواب کی بناء پر آیا ہے۔مجھے اس طوفان کی اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت خبر دی تھی اور مجھے رویا میں بکروں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے نظر آئے تھے اور اُنہوں نے مجھ سے بات کی تھی اور مجھے یہ سب نظارہ دکھایا گیا تھا۔اور بتایا گیا تھا کہ پھر یہ طوفان ہٹ جائے گا اور سب سے پہلے میں روشنی دیکھوں گا۔میں نے جب یہ کہا کہ بکروں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے ظاہر ہو کر مجھ سے ہمکلام ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ جس طرح کسی کی تقدیس اور بزرگی کا اعتراف کیا جاتا ہے اُسی طرح اُن بکروں میں سے جو وہاں تھے ایک نے میرے بازو پر اپنی تھوتھنی ملنی شروع کر دی۔گویا کہ وہ اظہار کرتا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں ٹھیک ہے۔اور گویا کہ وہ برکت ڈھونڈ رہے ہیں۔اور خواب میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بکرا اپنے پچھلے پاؤں پر کھڑا ہے اور اُس نے اگلے دونوں پاؤں میرے بازو کے گرد لپیٹ لئے ہیں۔جیسے کوئی وفور محبت سے دوسرے کو کھینچتا ہے اور میرے بازو پر اپنا منہ ملتا ہے۔اُس وقت میں حاضرین کو گزشتہ سب واقعہ پھر سناتا ہوں کہ اس طرح جب میرے خواب کے مطابق