خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 317

خطابات شوری جلد دوم ۳۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہے جیسے کسی کو سردی لگی ہوئی ہوتی ہے۔مگر وہ نہایت غلیظ ہے جسے دیکھ کر گھن آتی ہے۔اُس کے پاس ہی ایک بڑھیا عورت بیٹھی ہے جسے میں اس کی ماں یا ساس سمجھتا ہوں۔وہ بھی نہایت غلیظ لباس میں ہے۔اُس شکر کر بیٹھی ہوئی عورت کی نسبت میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ بیمار ہے اور اُسے سردی لگ گئی ہو گی مگر میں اُس طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اور یوں سمجھتا ہوں جیسے وہ عذاب الہی میں مبتلا ہے، توجہ کے قابل نہیں ہے اور میں اس خیال سے کہ گیلے لباس سے تکلیف نہ ہو کمرہ میں ٹہلنا شروع کر دیتا ہوں۔میری بیویاں بھی وہیں ہیں۔تین بیویاں تو یاد ہیں چوتھی یاد نہیں اور اپنی دولڑکیاں امتہ القیوم اور امتۃ الرشید وہاں دیکھیں۔جو امتہ الحی مرحومہ کے بطن سے ہیں۔میں اُس وقت دل میں خیال کرتا ہوں کہ گھر کے لوگوں کو ذرا فکر نہیں ، گیلے کپڑے پہن رکھے ہیں۔بہتر تھا کہ یہ ٹہلتیں تا کہ ان کے کپڑے خشک ہو جاتے اور صحت پر کوئی بُرا اثر نہ پڑتا۔مگر میں اُنہیں کہتا کچھ نہیں۔اتنے میں میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ جو اس اطمینان سے کھڑی ہیں تو شاید ان کے کپڑے گیلے ہی نہیں ہوئے اور مجھے خیال آتا ہے کہ میں اپنے کپڑے تو دیکھوں وہ خشک ہیں یا گیلے؟ جب میں اپنے کپڑے دیکھتا ہوں تو وہ بالکل خشک معلوم ہوتے ہیں۔اور میں کہتا ہوں یہ عجیب قسم کا طوفان تھا کہ باوجود طوفان میں رہنے کے کپڑے بھی سُوکھے رہے۔پھر مجھے شبہ پیدا ہوا اور میں نے سمجھا کہ شاید یہ طوفان نہیں تھا بلکہ طوفان کا ایک نظارہ تھا جو دکھائی دیا مگر جب حقیقت معلوم کرنے کے لئے ایک کانس پر پڑے ہوئے کپڑے پر ہاتھ رکھتا ہوں تو وہ بالکل گیلا نظر آتا ہے۔اور میں کہتا ہوں یہ کوئی خدائی تصرف ہے کہ میرے کپڑے باوجود طوفان کے گیلے نہ ہوئے۔اسی دوران میں مجھے خیال آتا ہے کہ امۃ القیوم کی صحت کمزور ہے، اسے گرم دھتہ دینا چاہئے تا کہ وہ اوڑھ لے چنانچہ میں نے اسے اپنا گرم دھستہ دیا جو بالکل خشک معلوم ہوتا ہے مگر تھوڑی دیر کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس نے وہ دُھتہ اوڑھا ہوگا نہیں۔میں اُس سے دریافت کرتا ہوں کہ میں نے جو تمہیں دھتہ دیا تھا ، وہ کہاں گیا ؟ تو وہ کہتی ہے کہ یہ ہندو عورت جو بیمار ہے اُسے میں نے دیا ہے تا کہ یہ اوڑھ لے۔ظاہری شریعت کے لحاظ سے تو اُس کا یہ فعل اچھا تھا مگر رویا میں مجھے اُس کا یہ فعل اچھا معلوم نہیں ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا دھتہ اُس ہند وعورت کو نہیں دینا چاہئے