خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 316

۳۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم اور اتنی کثرت سے پڑ رہے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اُن گولوں سے جو بھرا ہوا ہے۔میں یہ دیکھ کر گولوں سے بچنے کے لئے کشتی میں مجھک گیا۔اس کے بعد کا نظارہ مجھے یاد نہیں رہا۔اسی اثناء میں میں یکدم محسوس کرتا ہوں کہ ایک زبردست طوفان آیا ہے اور دُنیا میں پانی ہی پانی ہو گیا ہے اور میں اُس وقت اپنے آپ کو پانی کے نیچے پاتا ہوں۔میری کمر پر اُس وقت پانی کا اتنا بڑا بوجھ ہے کہ میں اُس کی وجہ سے پورے طور پر کھڑا نہیں ہوسکتا اور ہاتھوں اور پاؤں کے بل چلتا ہوں۔ساتھ ہی اندھیرا بھی ہے اور مجھے تاریکی کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آتا لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ جیسے پانی کو چادر میں ڈال کر کسی نے میرے اوپر سے اُٹھایا ہوا ہے یعنی اُس کا بوجھ میں زیادہ محسوس نہیں کرتا اور میری کمر پر پانی اس طرح لگ رہا ہے گویا وہ چادر ہی ہے اور چادر کو کسی نے اُٹھایا ہوا ہے جیسے پانی کی مشک کسی کی کمر پر رکھ دی جائے اور ساتھ اُس کا بوجھ بھی نہ پڑنے دیا جائے اسی کی مانند تھی۔اسی حالت میں جبکہ میں حیران ہوں کہ اب کیا ہو گا میں محسوس کرتا ہوں کہ پانی کم ہونا شروع ہوا ہے اور کسی نے اُس پانی کو جو ہمارے اوپر ہے اُٹھانا شروع کر دیا ہے۔یہاں تک کہ تمام بوجھ میری کمر پر سے دور ہو گیا اور میں کھڑا ہو گیا۔اُس وقت میں اپنے آپ کو ایک اس قسم کے کمرہ میں پاتا ہوں جو مغلیہ بادشاہوں کی عمارتوں کی طرز پر بنا ہوا ہے۔اُس میں تین بڑے بڑے در ہیں جنہیں دروازہ نہیں لگا ہوا۔کمرہ مسجد مبارک سے کچھ بڑا ہے۔اُس کمرہ میں کچھ اور لوگ بھی ہیں جن میں سے ایک میری بیوی اہم طاہر ہیں جو میرے پاس ہی کھڑی ہیں۔جب میں کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ پانی کم ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ کمرہ کے دروں میں سے ایک دَر کے اوپر کی طرف سے پانی ہٹ گیا اور روشنی اندر داخل ہونی شروع ہوئی جسے دیکھ کر میں نے بڑے جوش سے اپنی تیسری بیوی سے مخاطب ہو کر کہا مریم الْحَمْدُ للهِ دیکھو میری خواب پوری ہوگئی۔وہ دیکھو نور نظر آنے لگ گیا۔اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس کے متعلق پہلے سے کوئی رؤیا دیکھی ہوئی تھی۔اسی طرح دو تین دفعہ میں نے کہا پھر وہ پانی اور زیادہ کم ہونا شروع ہوا۔یہاں تک کہ دروازے نصف نصف تک نظر آنے لگ گئے۔میں یہ دیکھ کر پھر اُسی جوش میں کہتا ہوں مریم! دیکھو پانی اور زیادہ کم ہو گیا، الْحَمْدُ یتے میری خواب پوری ہو گئی۔اُس وقت میں دیکھتا ہوں کہ ایک ہندو عورت بھی وہاں شکر کر بیٹھی