خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 309

خطابات شوری جلد دوم ۳۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء کانٹا ہے جس کا گلاب کے پھول کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ پس جماعت کے کارکنوں کے ایک حصہ نے نہ صرف وہ کمی قبول کی ہے جو اُن کی تنخواہوں میں کی گئی ہے بلکہ بعض نے تو وقف زندگی کے شرائط کے مطابق گزارہ لینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب نے اس کو خوشی سے قبول کیا ہے ۔ ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جن کو یہ کمی دو بھر لگی ہو۔ مگر وہ نہایت ہی قلیل ہوں گے اور کم از کم میرے کانوں میں اب تک کسی کا رکن کے متعلق یہ آواز نہیں پہنچی کہ اُس نے اس کمی پر بُرا منایا ہو۔ غیروں نے بے شک یہ کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جماعت منحرف ہو جائے گی مگر کارکنوں میں سے ایک شخص کے متعلق بھی میں نے یہ بات نہیں سنی ۔ نہ براہِ راست اُس کے منہ سے اور نہ کسی اور کی زبان سے ۔ مگر میں خیال کر سکتا ہوں کہ ممکن ہے بعضوں نے اس پر چہ میگوئیاں کی ہوں ۔ مگر میرے علم میں کوئی ایسی مثال نہیں آئی۔ پس ایک نہایت ہی اہم اکثریت نے سلسلہ کی مشکلات کو سمجھا ہے اور اُس نے اس بوجھ کے اُٹھانے کے لئے بخوشی اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ بیرونی جماعتیں بھی اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی قربانی کا نمونہ پیش کریں گی ۔“ تیسرا دن اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور ائی مکمل ہونے پر حضور نے ۱۷۔ اپریل ۱۹۳۸ء کو مستقبل کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے احباب جماعت کو ایک پُر اثر الوداعی خطاب سے نوازا اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے فرمایا:- احباب جماعت کو آئندہ خطرات کے لئے تیاری کرنی چاہئیے اب ہم اُس کام کو ختم کر چکے ہیں جس کے متعلق غور کرنے کے لئے ہم اس جگہ جمع ہوئے تھے لیکن وقتی ضرورت اور حقیقی ضرورت میں بہت بڑا فرق ہوا کرتا ہے ۔ وقتی ضرورت گو بڑی دکھائی اور میں ہے ۔ کو دیتی ہے لیکن حقیقتاً چھوٹی ہوتی ہے اور حقیقی ضرورت کو چھوٹی نظر آتی ہے بلکہ بعض دفعہ