خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 305

خطابات شوری جلد دوم ۳۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء عملہ الفضل کا قابلِ تعریف کام اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ کام کے لحاظ سے عملہ الفضل ترقی کرسکتا ہے مگر وہ علمی قابلیت یا تجربہ سے ہو سکتا ہے، یونہی نہیں۔ورنہ وقت کے لحاظ سے اور محنت کے لحاظ سے وہ کافی کام کرتے ہیں۔لوگ ان باتوں کو معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ جو کام کرنے والے ہوتے ہیں وہی جانتے ہیں کہ معمولی معمولی بات پر کتنا وقت خرچ ہو جاتا ہے۔مثال کے طور پر یہی دیکھ لو کہ الفضل کے پہلے صفحہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات دیئے جاتے ہیں۔اب بادی النظر میں ایک ایسا شخص جس نے حوالجات نکالنے میں کبھی محنت سے کام نہیں لیا خیال کر لیتا ہے کہ یہ کوئی بڑی بات ہے! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی کتاب یا الحکم یا بدر کا کوئی فائل اٹھایا اور اس میں سے ایک عبارت نقل کر دی حالانکہ اس میں بہت بڑی محنت اور جد و جہد سے کام لیا جاتا ہے۔بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جس مضمون کا خطبہ ہوتا ہے عین وہی مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر سے نکال کر خطبہ نمبر کے پہلے صفحہ پر رکھ دیا جاتا ہے اور یہ اتنا قیمتی کام ہے کہ میں اسے خطبہ سے بھی زیادہ اہم سمجھا کرتا ہوں۔اور بعض دفعہ جب میں دیکھتا ہوں کہ خطبہ کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات نکالے گئے ہیں تو میں بے اختیار کہہ اٹھتا ہوں کہ جس رنگ میں یہ حوالہ نکالا گیا ہے میں تو اسے خدا کا فعل سمجھتا ہوں۔خطبہ میں آج پڑھتا ہوں مگر خطبہ کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر جو سالہا سال پہلے کی ہوتی ہے نکال کر سامنے پیش کر دی جاتی ہے اور یہ ایسا کام ہے جو بہت ہی قابل تعریف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ۱۰۰ کے قریب کتابیں ہیں۔پھر الحکم اور بدر کے بیسیوں فائل ہیں۔ان تمام مجموعہ کتب میں سے خطبہ کے مضمون کے عین مطابق حوالہ نکال لینا ایک ایسی خوبی ہے جس کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے۔حوالہ جات کے ماہر پر رشک مجھے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت سے علوم عطا فرمائے ہیں اور کئی قسم کے فنون میں میں ملکہ رکھتا ہوں۔مگر بعض دفعہ اور مجالس میں بھی میں اس کا اظہار کر چکا ہوں کہ جس رنگ میں یہ شخص حوالے نکالتا ہے، یہ ایک ایسا کمال ہے کہ اس پر مجھے رشک آتا ہے مگر معترض صاحب نے