خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 304

۳۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم لمبا خطبہ پڑھا جاتا ہے تو اُس شخص کی حالت بہت ہی قابل رحم ہوتی ہے جو اس وقت خطبہ لکھ رہا ہوتا ہے۔وجہ یہ کہ بولنے میں انسان کافی تیز ہوتا ہے مگر لکھنے میں اتنی تیزی نہیں ہوسکتی۔پھر مزید وقت یہ ہے کہ اردو کا کوئی شارٹ ہینڈ نہیں، اس وجہ سے خطبہ نویس کو لفظاً لفظاً خطبہ لکھنا پڑتا ہے۔اور اِس پر اُس کی اس قدر محنت اور طاقت خرچ ہوتی ہے کہ خطبہ لکھنے کے بعد بجائے اسکے کہ لوگ اُس پر اعتراض کریں وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ لوگ اس کی اُنگلیاں دبائیں۔پھر اس کے بعد وہ خطبہ ۲۴ گھنٹہ کی اور محنت چاہتا ہے۔کیونکہ وہ خطبہ جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ میں دیا جاتا ہے چوبیس گھنٹوں کی محنت کے بعد صاف ہوتا ہے۔اس کے بعد وہ میرے پاس درستی کے لئے آتا ہے اور میں اس پر دو گھنٹے سے لے کر چھ گھنٹے تک وقت صرف کرتا ہوں۔اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اُس غریب کا کیا حال ہوتا ہو گا جو تقریر اور خطبہ کے ساتھ ساتھ الفاظ لکھتا چلا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ایک خاصی محنت کر کے اُسے صاف کرتا ہے۔بعض دفعہ ساٹھ ساٹھ صفحوں کا خطبہ بھی ہوتا ہے اور یہ تمام خطبہ وہ پنسل کے ساتھ جلدی جلدی لکھتا ہے اب ایک طرف پنسل کا لکھا ہوا ہوتا ہے ، دوسری طرف جلدی میں لکھا ہوا ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی جگہ اپنے لکھے ہوئے الفاظ اس سے پڑھے نہیں جاتے اور اُسے سوچنا پڑتا ہے کہ یہ کیا لفظ ہے۔پھر مضمون کے تسلسل اور ربط کے لحاظ سے جو لفظ زیادہ صحیح معلوم ہو وہ اُسے لکھنا پڑتا ہے۔میرے پاس جو خطوط آتے ہیں اُن پر ہمیشہ میں قلم سے جواب لکھ دیا کرتا ہوں۔مگر میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ میرے قلم سے لکھے ہوئے الفاظ دفتر والوں سے نہیں پڑھے جاتے اور وہ میرے پاس آکر پوچھتے ہیں کہ یہ آپ نے کیا لکھا ہے۔اُس وقت عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ اپنا لکھا ہوا مجھ سے بھی نہیں پڑھا جاتا حالانکہ میں نے وہ اِس قدر جلدی میں نہیں لکھا ہوتا مگر خطبہ تو شروع سے آخر تک پنسل سے لکھا جاتا ہے۔پس اس کے پڑھنے اور صاف کر کے لکھنے میں انہیں بہت بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اتنی بڑی محنت کے بعد جب خطبہ نمبر شائع ہوتا ہے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس میں الفضل والوں کا کیا کام ہے، کچھ بھی نہیں اور اس طرح خیال کر لیا جاتا ہے کہ جس دن اُنہوں نے خطبہ شائع کیا ہے اس دن وہ بالکل سکتے اور فارغ رہے ہیں حالانکہ خطبے کا دن خطبہ لکھنے والے کارکن کا سب سے زیادہ محنت کا دن ہوتا ہے۔