خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 303

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء کا عملہ پوری طرح کام نہیں کرتا مگر جس رنگ میں معترض صاحب نے بات پیش کی ہے اُس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں اشاعت کے کام سے کوئی لگا ؤ ہی نہیں اور اُنہوں نے الفضل کے عملہ کا جس رنگ میں نکتا پن ثابت کیا ہے اس کا بیسواں حصہ بھی درست نہیں۔میں چونکہ خود ایڈیٹر رہ چکا ہوں اس لئے میں جانتا ہوں کہ اخبار والوں کو رکن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مثلاً ایک کام خبریں نقل کرنا ہی ہے۔وہ اخبارات جن کے پاس رائٹر کی تاریں آتی ہیں اُنہوں نے بھی ایک نیوز ایڈیٹر بالکل الگ رکھا ہوا ہوتا ہے جس کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خبروں کو ترتیب دے اور ان کے ہیڈنگ لگائے یا بعض خبریں جن کا اندراج مصلحت کے خلاف ہو انہیں حذف کر دے۔مگر اتنے سے کام کے لئے ان کے ہاں ایک نیوز ایڈیٹر ہوتا ہے جس کا کام صرف خبریں مرتب کرنا ہوتا ہے لیکن الفضل والے اپنے اور کاموں کے علاوہ خبروں کی ترتیب کا کام موجودہ عملہ سے ہی لیتے ہیں۔پھر اور اخبارات میں جو خبریں آتی ہیں وہ کئی کئی صفحات پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور کوئی ان میں سے اہم ہوتی ہے اور کوئی غیر اہم۔کسی میں بے جا تکرار ہوتا ہے کسی میں طوالت ہوتی ہے، کسی کے الفاظ درست نہیں ہوتے ، کسی کا مفہوم بگڑا ہوا ہوتا ہے الفضل والے ان تمام خبروں کو پڑھتے ہیں اور پھر ان آٹھ دس صفحات کا خلاصہ نکالتے ہیں جو الفضل کے ایک صفحہ پر آتا ہے۔اس میں کئی جگہ انہیں دوسری خبروں سے الفاظ کاٹنے پڑتے ہیں ، کئی جگہ نئی عبارتیں بڑھانی پڑتی ہیں۔پھر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اہم خبر کونسی ہے اور غیر اہم کونسی اور آیا ایسی خبریں تو درج نہیں ہور ہیں جو مضحکہ خیز ہیں۔غرض یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو الفضل والوں کو کرنا پڑتا ہے۔اگر انہی صاحب کے سپرد یہ کام کیا جائے جنہوں نے اعتراض کیا ہے تو یا تو نا تجربہ کاری کی وجہ سے وہ ایسی خبریں لکھ دیں گے جنہیں پڑھ کر لوگ ہنستے ہنستے لوٹ جائیں گے۔یا اگر محنت کریں گے تو انہیں پتہ لگ جائے گا کہ اس کام میں کتنی مشکلات ہیں اور کس قدر وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔خطبہ جمعہ کے متعلق بھی انہیں یہ وہم ہے کہ شاید جب میں خطبہ پڑھ رہا ہوتا ہوں تو وہ ساتھ کے ساتھ ٹائپ ہوتا چلا جاتا ہے حالانکہ خطبہ کا لکھنا کوئی معمولی کام نہیں بلکہ اُس شخص پر جو خطبہ لکھ رہا ہوتا ہے بہت بڑا بوجھ ہوتا ہے۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ خطبہ ہوتا ہے اور جب اتنا