خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 302
خطابات شوریٰ جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء رعایت بھی کی جاتی ہے ایسی حالت میں جبکہ وہ سو فیصدی چندہ پورا کر دیں گی تو مرکز کو بھی فائدہ رہے گا اور اُن کی گرانٹ جو دس فی صدی ہے اُس میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں جب موقع ایسا ہے کہ مقامی کارکنوں نے کٹوتی منظور کر لی ہے تو بیرونی جماعتوں کو اپنے اختیار کا نمونہ دکھانا چاہئے اور میں نے جو یہ امر یہاں پیش کیا تھا کہ جماعت کے دوستوں کو الاؤنسز کی یہ کٹوتی منظور ہے یا نہیں ؟ اس میں یہی حکمت تھی کہ اگر یہ لوگ کہیں کہ منظور کر لی جائے اور ترقیات روک دی جائیں تو میں آپ سے پوچھوں کہ اب آپ لوگ بتائیں کہ اس کے مقابلہ میں آپ نے کیا کیا ہے کیونکہ جو شخص دوسرے کے متعلق قربانی کا مطالبہ کرتا مگر خود قربانی کرنے سے ہچکچاتا ہے وہ اخلاص سے کام نہیں لیتا۔پس یہ ذمہ داری بھی جماعت پر عائد ہوتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اسی فیصدی نہیں بلکہ سو فیصدی چندہ وصول کریں گے تا اُن کی گرانٹ میں جو کمی ہوئی ہے وہ پوری ہو جائے اور میں سمجھتا ہوں اگر وہ حقیقی ایمان کا مظاہرہ کریں تو اُن کی گرانٹ میں کمی نہیں آ سکتی ایک اور بات بھی میرے نوٹس میں لائی گئی ہے اور اس کو ہلکا کرنے کے لئے آئندہ پانچ سال میں گزشتہ تعلیمی وظائف کی رقوم وصول کی جائیں اور پھر آئندہ اسی رقم میں سے وظائف دیئے جائیں۔عام آمد سے امداد نہ کی جائے۔ایک دوست نے دریافت کیا ہے کہ اس فیصلہ کی تعمیل ہوئی ہے یا نہیں؟ سو ناظر صاحب اعلیٰ اور ناظر صاحب تعلیم و تربیت سے میں پوچھتا ہوں کہ اس فیصلہ کی تعمیل ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہوئی تو اس فیصلہ کو توڑنے کا اختیا ر انہیں کس نے دیا تھا۔“ ناظر صاحب اعلیٰ : حضور اس پر عمل نہیں ہو سکا۔حضور نے فرمایا: - ” تحقیقاتی کمیشن رپورٹ کرے کہ اس فیصلہ کوتوڑنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اسے کیا سزاملنی چاہئے“۔الفضل کی مشکلات دوران گفتگو میں بعض باتیں ”الفضل“ کے متعلقہ عملہ کے متعلق بھی کہی گئی ہیں لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں بہت سی باتیں معترض صاحب کی ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجھ پر اثر یہی ہے کہ الفضل