خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 301

خطابات شوری جلد دوم ۳۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہیں تھیں تمہیں سال کے بعد ٹھو کر لگتی ہے۔ اسی طرح بعض جماعتیں بھی ٹھوکر کھا سکتی ہیں پس ان کو یہ امر ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اُن سے جو تعاون کیا جاتا ہے وہ اِس لئے نہیں کہ شریعت نے ان کے حقوق مقرر کئے ہیں بلکہ اس لئے کہ اُن کے کاموں میں سہولت پیدا ہو۔ اگر مرکز میں اس وقت رو پیدا اکٹھا کیا جاتا ہے تو انتظام کی سہولت کے لئے ور نہ ہو سکتا ہے کہ ہم جماعتوں کو کہہ دیں کہ وہ خود ہی چندہ اکٹھا کریں اور خود ہی خرچ کریں ۔ مگر اس صورت میں یہ سمجھ لینا کہ یہ ہمارا حق ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی بالکل غلط بات ہے۔ دوسری طرف میں یہ سمجھتا ہوں کہ یکدم تبدیلی بہت سی مشکلات پیدا کرے گی۔ اس لئے پیشتر اس کے کہ بجٹ پیش کیا جائے اس قدر تبدیلی کرتا ہوں کہ بجائے نصف گرانٹ کم کرنے کے پچیس فی صدی کٹوتی کر کے ۷۵ فی صدی گرانٹ کی رقم بجٹ میں رکھی جائے ۔ ناظر صاحب نے کہا ہے کہ جماعتوں کی گرانٹ میں اگر کمی ہوئی ہے تو اس کے مقابلہ میں ہم نے بھی کمی کر دی ہے اور اس بارے میں ثبوت یہ پیش کیا ہے کہ مبلغین کا سفر خرچ کم اور ان کے دوروں کو محدود کر دیا گیا ہے مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں ایک عورت دانے پینے کے لئے دوسری عورت کے گھر گئی تو اس نے کہا بہن لا میں ہی پیس دیتی ہوں چنانچہ اس کی بجائے گھر کی مالکہ دانے پینے لگ گئی یہ دیکھ کر وہ کہنے لگی اچھا بہن توں میرے دانے پیس میں تیری روٹی کھاتی ہوں ۔ اخراجات میں کمی کا ذکر انہوں نے کیا ہے اس کا اثر بھی تو بیرونی جماعتوں پر پڑے گا نہ کہ مرکز پر ۔ پس یہ قربانی باہر کی جماعتوں کی ہے نہ کہ مرکز کی ۔ مگر اسے پیش اپنی قربانی کے ثبوت میں کیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں حیا کی وجہ سے انہوں نے یہ مثال نہیں دی جو انہیں دینی چاہئے تھی مگر میں اس کے ذکر میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا اور بجائے ان کے میں خود ہی ذکر کر دیتا ہوں کہ یہاں کے کارکنوں نے اپنی تنخواہوں میں ایک کافی کٹوتی اپنی خوشی سے منظور کر لی ہے اور میں سمجھتا ہوں اب جبکہ ہماری مالی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے سوائے اس شخص کے جو عرفان سے خالی ہو کون ہوگا جو اس امر کے لئے جدو جہد نہیں کرے گا کہ ہماری مالی حالت درست ہو۔ اگر جماعتیں جدو جہد کریں اور وہ سو فی صد ہی چندہ وصول کر لیں تو اُن کی گرانٹ بھی پوری ہو سکتی ہے۔ اس طرح کہ اب ۸۰ فیصدی چندہ پر انہیں دس فیصدی گرانٹ ملتی ہے اور بعض کے ساتھ