خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 300

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بجٹ نہیں بھیجا۔ لیکن اگر وہ بھیج بھی دیتے تو وہ بات جو میں نے بیان کی ہے انجمن پر سے عائد کردہ الزام کو دور کر دیتی ہے مگر کارکنوں سے یہ بات الزام دور نہیں کر سکتی ۔ اس لئے میں تحقیقاتی کمیشن کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس بارے میں رپورٹ کرے۔ صرف یہی نہیں کہ اس میں فلاں فلاں کی غلطی ہے بلکہ یہ بھی کہ ان افسروں کو کیا سزاملنی چاہئے کیونکہ جب تک قانون شکنی کو روکا نہیں جائے گا اس وقت تک ہم کوئی اصلاحی قدم نہیں اُٹھا سکتے ۔ دوستوں کی طرف سے اس بات پر کثرت سے بجٹ پر اعتراضات کے جوابات اعتراض کیا گیا ہے کہ جو رات میں کمی کی گئی کیا ہے کہ جو گرانٹ ہے اس سے مختلف جماعتوں کے کام رُک جائیں گے مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس نیت اور غرض سے میں نے گرانٹیں تجویز کی تھیں جماعتوں نے اس بارے میں اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا اور جس زیادتی کی امید تھی اور خیال تھا کہ دس فیصدی گرانٹ تمام جماعت کو دی جائے اور میرے خیال کو جماعتوں نے اپنے عمل سے باطل کر دیا ہے بعض جماعتوں نے تو اس کو ایک ایسا حق فرض کر لیا ہے کہ ایک پراونشل انجمن کی طرف سے مجھے چٹھی ملی کہ ہم نے صدر انجمن احمد یہ کو یہ بات لکھی ہے کہ اس نے گرانٹ بند کر دی تو ہمارے اور صدر انجمن کے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ جس پر مجبوراً مجھے لکھنا پڑا کہ صدرانجمن احمد یہ جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے اور آپ نے جب یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر آپ کی بات نہ مانی گئی تو صدرانجمن کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہیں رہیں گے تو ساتھ ہی آپ نے یہ بھی سوچ لیا ہوگا کہ خلیفہ کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات اچھے نہیں رہیں گے اس صورت میں کیا آپ نے کوئی نئی جماعت بنانے کی تجویز سوچ لی ہے۔ گویا بجائے اس کے کہ تعاون بڑھتا تعاون میں کمی آگئی ۔ (اس جماعت کی طرف سے بعد میں تشریح آگئی ہے کہ امیر کا اس میں دخل نہ تھا کسی اور کارکن نے یہ الفاظ بڑھا دیئے تھے ۔ ) ایک انتباہ جما عتوا جماعتوں کو یہ امر اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایک مذہبی جماعت ہیں دنیوی حکومت نہیں پس انہیں اپنے مذہبی ادب کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے ورنہ بی ہمیشہ ان کا اتحاد آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں ۔ جس طرح بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہیں