خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 278
خطابات شوری جلد دوم ۲۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ووٹ لینے پر یہ تجویز کثرتِ رائے سے پاس ہوگئی۔اور فیصلہ ہوا کہ :- جہاں جماعت کے ممبر چالیس یا اس سے زیادہ ہوں وہاں انتخاب امیر براہ راست دو نہ ہو بلکہ احباب جماعت کی منتخب کمیٹی انتخاب کرے۔“ اس کے بعد بعض ترامیم پیش کی گئیں جن پر ممبران کے اظہارِ خیال اور رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا : - " ر بالواسطه انتخاب کا جو مسئلہ نظارت اعلیٰ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے اس کی حکمت پوری طرح میری سمجھ میں نہیں آئی اور اس کے جواز کے لئے جو مشکلات پیش کی گئی ہیں میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ ان پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا اور میرا اندازہ ہے کہ اس تجویز سے ان مشکلات کا حل نہیں ہو سکتا۔یہ بحث سیاسیات میں ہمیشہ چلتی رہتی ہے کہ بیرونی اثر تھوڑے آدمیوں پر جلدی ڈالا جا سکتا ہے یا زیادہ پر اور اس کے متعلق ابھی دُنیا کوئی فیصلہ نہیں کرسکی۔ہندوستان کے کانسٹی ٹیوشن (CONSTITUTION) کی ترتیب کے وقت بھی یہ بحث بڑے زور سے ہوئی ہے کہ انتخابات بالواسطہ ہوں یا بلا واسطہ۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے اس ضمن میں یہ سوال بھی زیر بحث آیا تھا کہ زیادہ اثر کس پر ڈالا جا سکتا ہے۔بعض مدبروں کی رائے یہ ہے کہ تھوڑے لوگوں پر اثر کم ڈالا جا سکتا ہے، اس لئے انتخاب بالواسطہ ہونا چاہئے۔بعض کی اس کے خلاف۔میری اپنی رائے بھی ثانی الذکر کے مطابق ہے۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے۔سائمن رپورٹ پر میں نے جو تبصرہ لکھا تھا اُس میں بھی اسی رائے کا اظہار کیا تھا کہ تھوڑے لوگوں پر زیادہ اثر ڈالا جا سکتا ہے مگر اس کے انتخابات بلا واسطہ ہونے چاہئیں۔اس وقت ہمارے سامنے مذہبی نظام ہے اور دنیوی نکتہ نگاہ مذہبی نکتہ نگاہ سے مختلف ہو سکتا ہے۔عین ممکن ہے کہ ایک شخص سیاسیات کے میدان میں تو انتخاب بالواسطہ کا حامی ہو لیکن مذہبی انتخاب اُس کے نزدیک بلا واسطہ ہونا ضروری ہو اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ اس وقت بھی میری وہی رائے ہے جو میں نے ہندوستان کی کانسٹی ٹیوشن کی تیاری کے وقت دی تھی لیکن اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر میں نے جو اس وقت غور کیا ہے اس کے رو سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس تجویز کو اس وقت پیش کرنے کی حکمت میری سمجھ میں نہیں آئی۔ابھی تک مجھ پر یہی اثر ہے کہ جن مثالوں کی بنیاد