خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 277

۲۷۷ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء احمدیت کو فائدہ پہنچے گا اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔غرض ان قیود میں بعض مفید پہلو بھی ہیں اور بعض مھر بھی اس لئے اس وقت تک میرا خیال یہی ہے کہ موجودہ قاعدہ کہ اجازت کے ساتھ شادی کی جائے میرے نزدیک مرجح ہے اس لئے میں کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں کہ تین سال تک مزید یہ قاعدہ جاری رہے کہ جو احمدی غیر احمدی لڑکی سے شادی کرنا چاہے، ناظر تعلیم سے اجازت لے کر کرے اس کے بغیر نہیں۔مگر ساتھ ہی محکمہ متعلقہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ جہاں فوائد ہوں وہاں اجازت دینے میں بخل سے کام نہ لیا جائے۔“ امراء کے انتخاب کا طریق ۱۶۔اپریل ۱۹۳۸ء کو مجلس مشاورت کے دوسرے اجلاس میں سب کمیٹی نظارت علیا کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ:- امراء کے تقرر کے لئے مشورہ بذریعہ عام اجلاس نہ ہو بلکہ ہر ایک امارت کے علاقہ میں جہاں کہ چندہ دہندگان کی تعداد چالیس یا چالیس سے زیادہ ہو ایک مجلس انتخاب مقرر کی جائے جو اس علاقہ کے منتخب شدہ نمائندوں اور مرکز کی طرف سے نامزد شدہ اصحاب پر مشتمل ہو اور امراء کے انتخاب کے متعلق مشورہ دینے کا حق صرف اس مجلس کے ممبران تک محدود کر دیا جائے۔“ اس سلسلہ میں حضور نے فرمایا :- ر بعض دوستوں نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ تقریر امیر کا مسئلہ ایک مذہبی مسئلہ ہے اس لئے اس کے متعلق اُس اسوہ کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ کے بعد خلفاء کے زمانہ میں اختیار کیا جاتا تھا میرے خیال میں یہ ایک ایسا امر ہے جس کی طرف توجہ کی جانی چاہئے اور اس لئے میں اپنے علماء کو جو تاریخ یا اس سے متعلقہ مضامین پڑھاتے ہیں موقع دینا چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق اپنے خیالات اختصار کے ساتھ بیان کریں مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، میر محمد اسحاق صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب اپنے اپنے خیالات ظاہر کریں۔“ اس پر اس تجویز کے بارے میں یکے بعد دیگرے ممبران نے اپنی آراء پیش کیں۔