خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 14

خطابات شوری جلد دوم ۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دیا کہ ہم لڑنے کے لئے تیار نہیں تمہیں جو انتظام کرنا ہو خود کر لو۔گویا انہوں نے وقت پر آگاہ اور ہوشیار کر دیا مگر ہم میں سے کئی ایسے ہیں جو آگاہ کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ان کی مثال اُس امیر کی سی ہے جس نے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ تم کو اپنے لئے کسی جائداد کی ضرورت نہیں میرے کھجوروں کے اتنے باغ کھڑے ہیں، ایک درخت کی کھجوریں تم لے جانا۔اُس کے بھائی نے کہا وقت پر میں آپ کو یہ بات کہاں یاد دلاتا رہوں گا، ایک درخت میرے لئے مقرر کر دو میں اُس کی حفاظت بھی کروں گا اور وقت پر کھجوریں لے جاؤں گا۔امیر نے کہا کہ یہ تو بڑے شرم کی بات ہے کہ میرے اتنے نوکر ہوں اور تم اپنے درخت کی حفاظت کرو اسی طرح رہنے دو اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔آخر جب وقت آیا تو غریب بھائی نے کہا کہ اپنے مالیوں سے کہہ دیں کہ مجھے ایک درخت بتا دیں تا کہ میں اُس کی کھجور میں پڑ والوں۔تو پھر امیر نے کہا کہ کیا میرے نوکر تمہارا یہ کام نہیں کر سکتے ؟ پھر جب کھجور میں گھر میں لے جانے کا وقت آیا تو غریب بھائی نے کہا اب مجھے کھجور میں دے دی جائیں تا کہ میں گھر لے جاسکوں۔امیر بھائی نے کہا یہ بھی میرے لئے مناسب نہیں۔جہاں اتنی کھجور میں جائیں گی وہاں یہ بھی چلی جائیں گی میرے نوکر تمہارے گھر پہنچا دیں گے۔آخر جب سب کھجوریں اُس کے گھر پہنچ گئیں اور بھائی خالی کا خالی رہ گیا اور اُس نے شکایت کی تو اُس نے جواب دیا کہ اب کے تو نوکروں سے غلطی ہوگئی ہے تم کو اگلے سال کھجوریں دیں گے۔یہ بظاہر بنسی کی بات ہے مگر دُنیا میں ہو رہی ہے اور ہم میں بھی ہو رہی ہے۔ہر موقع پر ہماری جماعت کے بعض لوگ اقرار کرتے ہیں کہ جس قربانی کی بھی ضرورت ہو گی وہ ہم کریں گے لیکن جب کسی قربانی کے پیش کرنے کا وقت آتا ہے تو اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق میں کہتا ہوں کاش ! وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں والا یہ جواب ہی دے دیتے کہ فاذهب انت وربك فَقَاتِلا إِنَّا ههنا قاعِدُونَ۔تا ہمیں اپنے دنیوی سامانوں کا صحیح اندازہ لگانے کا موقع تو مل جاتا اور ہم ان لوگوں کی وجہ سے جو قربانی کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر قربانی کرتے نہیں دھوکا میں نہ رہتے۔اسلامی احکام اور دنیا کی موجودہ حالت غرض ایک نہایت ہی عظیم الشان کام ہمارے سامنے ہے، اتنا عظیم الشان کہ