خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 266

خطابات شوری جلد دوم ۲۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اس کے بعد میں باقی دوستوں کو جو کسی کمیٹی میں امام ابوحنیفہ کا سبق آموز واقعہ شامل نہ ہوں گے توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے نازک موقع پر بہت احتیاط کی ضرورت ہے اس لئے وہ دعاؤں پر بہت زور دیں۔اس وقت ہماری تھوڑی سی غلطی بہت بڑے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔میں نے کئی دفعہ ایک واقعہ سُنایا ہے کہ ایک دفعہ بارش ہو رہی تھی۔حضرت امام ابو حنیفہ نے دیکھا کہ ایک بچہ پھسلنے لگا ہے۔آپ نے کہا کہ میاں بچے ذرا سنبھل کر چلو ایسا نہ ہو گر جاؤ۔بچہ کی عمر تو گو چھوٹی تھی مگر دماغی نشو ونما اعلیٰ درجہ کا تھا۔اُس نے مُڑ کر دیکھا اور معلوم کیا کہ نصیحت کرنے والے امام ابوحنیفہ تھے۔اس نے کہا امام صاحب آپ سنبھل کر چلیں ، میری خیر ہے کیونکہ اگر میں گرا تو اس کا نقصان صرف مجھے ہو گا لیکن اگر آپ گرے تو آپ کے ساتھ قوم گرے گی۔تو ایسے بظاہر کمزور نظر آنے والے افراد اور نہایت قلیل نظر آنے والی جماعت کے لوگو! بے شک اس وقت تم سب سے قلیل اور کمزور ہو لیکن آئندہ دُنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کی بنیاد تم ہو گے۔تم وہ بنیادی پتھر ہو جس پر دین کی عمارت تعمیر کی جائے گی اس لئے اگر اس وقت تمہارے اندر کوئی کبھی پیدا ہوئی تو وہ ہزاروں سال تک چلتی جائے گی۔پس دُعائیں کرو اور بہت دعائیں کرو اور اللہ تعالیٰ کی مدد تلاش کرو تا اُس کے فضل نازل ہوں اور تم کوئی ایسا قدم اُٹھانے سے بچ جاؤ جو تمہاری تباہی کا موجب ہو سکتا ہو اور تم اُس راہ پر نہ چل سکو جو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہو۔ایجنڈا کے متعلق عام دستور کے مطابق تو یہی طریق ہے کہ مختلف کمیٹیاں مقرر کر دی جاتی ہیں لیکن میں چاہتا ہوں اس سال کم سے کم کمیٹیاں ہوں۔سب سے بڑی سب کمیٹی تو وہی ہے جو نظارت بیت المال کی ہے کیونکہ وہ بجٹ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اس کے علاوہ نظارت تعلیم و تربیت کی ایک تجویز ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس کے لئے کسی سب کمیٹی کی ضرورت نہیں۔اسی طرح امور خارجہ اور امور عامہ کی تجاویز کے لئے بھی نہیں۔ان تجاویز پر عام اجلاس میں ہی غور کر لیا جائے گا۔نظارت علیا کی طرف سے جو تجویز ہے اس پر غور کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے بھی کوئی علیحدہ سب کمیٹی مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔بیت المال سب کمیٹی میں ہی اس پر غور کر لیا جائے۔پس میں صرف ایک ہی سب کمیٹی مقرر