خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 265
خطابات شوری جلد دوم ۲۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بحیثیت مشیر آپ لوگوں کا فرض ہے کہ دیانت داری کے ساتھ ان پر غور کریں اور اگر سمجھیں کہ کسی تجویز میں نقائص ہیں یا اس پر عمل کرنے سے سلسلہ کو نقصان ہوگا یا مشکلات میں اضافہ ہو گا تو دلیری کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن کے جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔گویا جس طرح کسی کا روپیہ کھا جانا بد دیانتی ہے اسی طرح مشورہ کو چھپانا بھی دیانتداری کے خلاف ہے۔پس آپ محض اس وجہ سے اس پر غور کرنے سے پہلو تہی نہ کریں کہ یہ میری طرف سے پیش کی گئی ہے بلکہ اگر آپ کے دل کی گہرائیوں سے یہی آواز نکلے کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو اسے چھپائیں نہیں بلکہ دلیری کے ساتھ گفتگو کر کے اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کریں۔اگر تغیر کے متعلق مشورہ کو میں قابل قبول نہ سمجھوں گا تو اپنی ذمہ واری پر اسے رڈ کر دوں گا۔جب اس پر عمل کا وقت آئے اس وقت اختلاف رائے کے اظہار کی اجازت نہ ہو گی لیکن مشورہ کے وقت ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنا مشورہ پیش کرے۔معاملات کی نزاکت کا احساس رکھتے ہوئے ایک تجویز یہ کی گئی ہے کہ گو میں خودسب کمیٹیوں میں شامل نہیں ہوں گا لیکن اگر کمیٹی ضرورت سمجھے تو مجھے مل کر تبادلہ خیالات کر سکتی ہے چاہے تو سارے ممبر مل لیں یا اپنے میں سے بعض نمائندے تجویز کر کے بھیج دیں تا اس سکیم پر جو اعتراضات ہو سکیں انہیں پہلے ہی حل کر لیا جائے اور اگر تبادلۂ خیالات کے بعد اُن کی سمجھ میں بات آجائے تو وہ اپنی رائے میں تبدیلی کر لیں ورنہ جس رنگ میں مفید سمجھیں یہاں پیش کر دیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اصل اجلاس میں بہت سی باتیں پیش کرنے کی ضرورت نہ رہے گی اور اس طرح باہم تبادلۂ خیالات کا یہ فائدہ بھی ہو گا کہ ممکن ہے کوئی ایسی تجویز پیدا ہو جائے جو اس وقت نہ ان کے ذہن میں ہو اور نہ میرے ذہن میں۔اگر سب کمیٹی نے اپنا اجلاس یہاں ہی کرنا مناسب سمجھا تو یہاں سکول میں ٹیلیفون ہے اس پر وہ میرے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔لیکن اگر سارے ممبران کمیٹی سے بات کرنی ضروری سمجھی جائے تو میں یہاں آ سکتا ہوں یا پھر کمیٹی اپنے میں سے بعض نمائندوں کو میرے پاس بھیج سکتی ہے۔