خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 261

خطابات شوری جلد دوم ۲۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہے اور مدنی زندگی کو امن کی زندگی قرار دیا ہے حالانکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت خطرناک زندگی تھی۔عرب کے تمدن اور حالات کے لحاظ سے اُس وقت سے مسلمانوں کے لئے امن کی زندگی شروع ہو گئی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کو فتح کیا لیکن دراصل یہ فتح آپ کے لئے امن نہیں بلکہ مشکلات پیدا کرنے والی تھی کیونکہ پہلے تو آپ کی طرف کسی بیرونی طاقت کو توجہ نہیں تھی مگر اس کے بعد روم اور ایران کی سلطنتوں کو بھی یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ ترقی کرتے اور طاقت پکڑتے جاتے ہیں ان کو مٹانا چاہئے اور اس لئے یہ زمانہ بہت خطرہ کا زمانہ تھا۔دشمن پوری طاقت کے ساتھ مٹانے کی طرف متوجہ ہو چکے تھے مگر مسلمانوں کے پاس دفاع کی طاقت نہ تھی۔یہی حالت اس وقت ہماری ہے۔آج کوئی حکومت ایسی نہیں جو سکھوں کو دکھ دینے کے لئے تیار ہو کیونکہ اگر چہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں مگر سالہا سال تک حکومت کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں جسے برداشت کرنے کے لئے کوئی حکومت تیار نہیں ہو سکتی۔لیکن ہمیں دکھ دینے میں کسی کو تامل نہیں کیونکہ ہماری اس قدر تعداد نہیں جس سے لوگ خوف کھا سکیں اور پھر ہم اب ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ بعض نادان حکام بھی اور مختلف قو میں بھی یہ سمجھ رہی ہیں کہ ان کا اور آگے بڑھنا ہمارے لئے خطرہ کا موجب ہے اس لئے انہیں آج ہی مٹا دینا چاہئے۔ادھر ہم میں ایسی طاقت نہیں کہ جس کی وجہ سے وہ ہماری تکلیف کا خیال چھوڑ دیں۔پس ہم میں سے جو عقلمند ہیں انہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری جماعت کے لئے یہ وقت نہایت نازک ہے۔قومی مقابلہ ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے اور قومی طور پر ایک نظام کے ماتحت جو تدابیر اختیار کی جائیں اور جوطریقے استعمال کئے جاتے ہیں، وہ ایسے ہوتے ہیں جو بعض دفعہ نظر بھی نہیں آتے۔پس ہماری جماعت کیلئے یہ وقت بہت ہی نازک ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی حالتوں میں اصلاح کریں، اپنے اعمال پر قابو رکھیں اور دعاؤں پر بہت زور دیں اور پھر اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تا ادھر ایک طرف تو تدبیر مکمل ہو اور اُدھر تقدیر درست ہو اور جب کسی قوم کے لئے یہ دونوں باتیں درست ہو جائیں تو اُس کی تباہی پر کوئی قادر نہیں ہوسکتا۔میں ایک عرصہ سے ان باتوں کی طرف توجہ دلا رہا ہوں اور مجھے یاد ہے کہ بعض منافقین جو اب جماعت سے علیحدہ ہو چکے