خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 255
خطابات شوریٰ جلد دوم ۲۵۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء منعقده ۱۵ تا ۱۷ را پریل ۱۹۳۸ء بمقام قادیان ) پہلا دن مجلس مشاورت منعقد و ۱۵ تا ۱۷ اپریل ۱۹۳۸ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی۔افتتاحی خطاب سے قبل دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:- چونکہ جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ الہی کام ہے اور اللہ تعالیٰ کے منشاء دعا کو پورا کرنا ہی اصل مقصد ہے اس لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔یوں تو ہر انسان کے لئے ہر کام شروع کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور دعا کرے۔حتی کہ بعض بزرگوں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر جُوتی کے تسمہ کی ضرورت ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہئے لیکن جو کام ہو ہی اللہ تعالیٰ کا اسے اس کی مدد کے بغیر کرنا نادانی ہے۔جو شخص کسی کا وکیل یا مختار ہو اُس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کا کام شروع کرنے سے قبل اُس سے ہدایت لے تا اُس کے منشاء کے مطابق کام کر سکے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے دعا کرنا اور اُس سے مددطلب کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔یوں تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر کام سے پہلے دُعا کرنا ضروری ہے مگر اللہ تعالیٰ کا کام کرنے سے قبل تو اشد ضروری ہے کہ ہم اس سے دعا مانگیں کیونکہ خدائی کام ہرگز آپ ہی آپ نہیں ہو سکتا۔اور اگر ہم اسے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کرنا چاہیں تو ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس کے خلاف منشاء کر کے ہم خدمت کے صلہ سے محروم ہو جائیں اور دوسرے عذاب میں مبتلا ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ سے پوچھنے کا طریق دعا ہی ہے۔ہمیں چاہئے کہ دُعا کریں کہ