خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 237

خطابات شوری جلد دوم ۲۳۷ مشاورت ۱۹۳۷ء وہ یہ کہ قادیان میں جب بھی کوئی شخص نیا مکان بناتا ہے، وہ گلی میں سے کچھ نہ کچھ زمین اپنے مکان میں شامل کر لیتا ہے۔یہ ایسی گندی مرض ہے کہ اسے دیکھ کر دل میں سخت قبض پیدا ہوتی ہے اور بجائے دُعا کے بددعا نکلتی ہے کہ لوگ کتنے مُردہ ہو گئے ہیں اور اُن کے احساس کس طرح مر گئے ہیں۔پھر وہ اس میں اتنا غلو اور اصرار کرتے ہیں کہ سمجھانے کے با وجود باز نہیں آتے اور کہتے ہیں چونکہ فلاں نے گلی میں سے تھوڑی سی زمین لے لی ہے اس لئے ہم سے بھی برداشت نہیں ہو سکتا اور ہم بھی ضرور گلی میں سے کچھ زمین چھینیں گے۔حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اپنے مکان کی زمین میں سے تھوڑی سی زمین رستہ کی وسعت کے لئے چھوڑ دی جاتی مگر کیا یہ جاتا ہے کہ گلی کی زمین کو اپنی زمین میں شامل کر لیا جاتا ہے اور جب جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو کہتے ہیں ذرا سی زمین تھی، ذراسی زمین لے لینے میں کیا حرج ہوا۔یہ ویسی ہی بات ہے، جیسے راولپنڈی کی طرف ایک ملا کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا، اگر ذراسی ہوا خارج ہو جائے تو کیا وضوٹوٹ جاتا ہے؟ اس نے کہا ذراسی کیا اور زیادہ کیا ہوا خارج ہو گی تو وضو ٹوٹ جائے گا۔مگر وہ اصرار کرے اور کہے کہ ذراسی ہوا خارج ہو جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔یہ لوگ بھی کہتے ہیں اگر راستہ میں سے ذراسی زمین لے لی جائے تو کیا ہوا۔حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے چاہئے یہ تھا کہ اگر راستہ کافی چوڑا نہ ہو تو راستے چوڑے رکھنے کے لئے خود اپنی زمین میں سے کچھ حصہ گلی میں خالی چھوڑا جاتا کیونکہ رستوں کا چوڑا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اپنے رہنے کے لئے مکان بنانے سے پہلے مردوں کا انتظام کرنا چاہئے۔آپ فرماتے تھے کسی شخص نے مکان بنایا تو زینے اُس کے بہت چھوٹے رکھے۔اتفاقاً اُن کے گھر میں ایک موت ہو گئی۔جو شخص مرا وہ بہت ہی موٹا تھا اُسے چھت پر سے اُتارنے کے لئے بڑی جدو جہد کرنی پڑی اور لاش کی سخت بے حرمتی ہوئی تو آپ فرمایا کرتے تھے زندوں سے پہلے مُردوں کا خیال رکھو۔پس ان باتوں کا خیال ہمیشہ قوم کے دماغی معیار کو بلند کرتا اور قوم میں قربانی کی روح پیدا کرتا ہے اور میں نصیحت کرتا ہوں کہ باہر کے لوگ بھی اور یہاں کے رہنے والے بھی اس بارے میں اپنا اچھا نمونہ پیش کریں۔