خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 224
خطابات شوری جلد دوم ۲۲۴ مشاورت ۱۹۳۷ء بریکاری دور کی جائے چھٹی بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ بریکاری ہے۔میں نے بارہا کہا ہے کہ جماعت میں سے بیکاری دُور کی جائے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک جماعت کے بعض دوستوں پر یہ اثر ہے کہ جب تک فلاں قسم کی نوکری ہمیں نہیں ملے گی ہم نوکری نہیں کریں گے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہماری جماعت میں ایسے نوجوان بھی ہیں جنھوں نے قربانی کی۔چنانچہ بیسیوں ہیں جنھوں نے ادنی ادنیٰ ملازمتیں اختیار کر لیں اور درجنوں ہیں جو گھروں سے نکل گئے اور غیر ممالک میں چلے گئے۔میرے نزدیک وہ نوجوان عزت کے قابل ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کے نام رجسٹروں میں درج کئے جائیں اور اخبارات میں شائع کئے جائیں کیونکہ وہ ہماری جماعت کے پاونیر اور ہر اول ہیں مگر پھر بھی مزید ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت کے وہ لوگ جو بیکار ہیں گھروں سے باہر نکلیں اور بیکاری دُور کریں۔میں نے بارہا کہا ہے کہ اگر کوئی شخص بیکار ہے تو اسے چاہئے الفضل کی ایجنسی لے لے اور جماعت کے لوگوں میں اسے فروخت کرنا شروع کر دے۔غالباً پانچ پرچے جہاں جاتے ہوں ، وہاں الفضل کی ایجنسی کھل سکتی ہے اور پانچ پیسے یومیہ کے یہ معنے ہیں کہ وہ دو سوا دو روپے ماہوار حاصل کر سکتے ہیں۔میں تو نہیں سمجھ سکتا اگر پاخانے میں بھی ایسے شخص کو دو روپے ملیں تو وہ انہیں چھوڑ دے۔پھر میں کس طرح سمجھ لوں کہ اُنہیں حلال روزی ملتی ہو اور وہ اس روزی کو نا پسند کریں۔لیکن بڑا نقص یہ ہے کہ ایجنسیاں گھلتی ہیں اور پھر لوگوں کی بددیانتی کی وجہ سے بند ہو جاتی ہیں اور الفضل والے شکایت کرتے ہیں کہ لوگوں سے روپیہ وصول نہیں ہوتا۔میں یہ صورتِ حالات دیکھ کر سمجھتا ہوں کہ آئندہ یا تو ایجنسیاں بالکل بند کر دینی چاہئیں یا انہیں خوب جاری کر کے دیکھنا چاہئے کہ کون کون سی جماعت ایسی ہے جس کے افراد بد دیانت ہیں۔مومن تو الگ رہا قرآن کریم میں یہودیوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ان میں سے بھی بعض ایسے نیک ہیں کہ اگر ڈھیروں ڈھیر سونا اُن کے سامنے پڑا ہوا ہو تو وہ اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتے۔پھر یہ کیسے مومن ہیں کہ دو روپے ”الفضل“ کے لیتے ہیں اور بددیانتی سے کھا جاتے ہیں۔پس ایسے لوگ مومن نہیں بلکہ بددیانت ہیں اور ان کا وجود ایمان کے لئے دھبہ ہے اور یہ نہایت ہی خطر ناک اور گندہ پہلو ہے۔جماعتوں کو ایمانداری