خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 219
۲۱۹ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم کا اعتراض کیا ، اور انہی باتوں کے نتیجہ میں بعض احمق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں۔کہتے ہیں کوئی پٹھان قدوری پڑھ رہا تھا جس میں اُس نے پڑھا کہ نماز میں حرکت صغیرہ ممنوع ہے اور حرکت کبیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔پھر کسی دوسرے وقت اُس نے حدیث کا جو سبق لیا تو ایک حدیث ایسی آگئی جس میں لکھا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت نماز میں ہی دروازہ کھول دیا اور بعض جگہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر نماز میں سانپ وغیرہ سامنے آ جائے تو اُسے مارا جا سکتا ہے یا وہ پٹھان یہ پڑھتے ہی کہنے لگا " خومحمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا ، قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت کبیرہ سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔اب اگر کوئی شخص ایسا ہو جونماز پڑھ رہا ہو اور نماز میں ہی سانپ نکل اگر آئے اور وہ نماز نہ توڑے بلکہ پڑھتا رہے تو کیا ہم کہیں گے وہ زیادہ نیک ہے؟ ہم تو یہی کہیں گے کہ اُس کے اندر کوئی دماغی نقص ہے جس کی وجہ سے اُس نے سانپ کو دیکھنے کے باوجود اُسے مارنے کی کوشش نہ کی حالانکہ اسلام نے اُس کی اجازت دی تھی۔غرض ایسے افعال کو اگر ہم نیکی قرار دیں تو ہمیں نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کہنا پڑے گا کہ آپ اس نیکی سے محروم تھے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔پھر کپڑوں پر ۱۲ پیوند ہونے یہ کوئی فخر کے قابل بات نہیں۔کیا جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کپڑوں پر چھ پیوند ہوتے تھے اُس دن آپ میں نیکی کم ہو جاتی تھی؟ یا آپ جب بھی کوئی نیا کپڑا پہنتے قیچی لے کر بیٹھ جاتے تھے اور کپڑوں کو پھاڑنا شروع کر دیتے تھے؟ غرض اس قسم کی تاریخیں ہمارے مدنظر نہیں۔یہ لوگ جو ان واقعات کو لکھتے ہیں دراصل نقال ہیں۔تاریخی واقعات کی چھان بین کی ان میں قابلیت نہیں اور یہ ویسی ہی بات ہے جیسے غیر مبائعین پہلے کہا کرتے تھے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کیسی آزادی رائے حاصل تھی۔بھری مجلس میں ایک شخص کھڑا ہوتا تھا اور سوال کر دیتا تھا کہ یہ گر تہ تم نے کہاں سے لیا؟ یہ ہے اصل نیکی جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔غرض اِس طرح کہہ کہہ کر جب انہوں نے اپنے ساتھیوں کو نیکی کی سان پر چڑھایا تو انہوں نے ہی دوسرے وقت مولوی محمد علی صاحب کی گردن پکڑ لی اور کئی اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔پھر مولوی محمد علی صاحب نے یہ شور مچا دیا کہ جب تک تم اِسْمَعُوا وَاَطِيْعُوا پر عمل نہیں کرتے اور ایک آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار نہیں رہتے اُس وقت