خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 218
خطابات شوری جلد دوم ۲۱۸ مشاورت ۱۹۳۷ء اس میں قینچی سے ۱۲ موریاں کر کے ۱۲ پیوند لگا لیتے تھے۔حالانکہ اسے کوئی عقل تسلیم نہیں کر سکتی۔پھر ۱۲ پیوند لگانے کوئی ذاتی خوبی نہیں کہ اسے بیان کیا جائے اور اس پر زور دیا جائے۔دُنیا میں کئی باتیں ایسی ہیں جنھیں انسان وقتی مجبوری یا ضرورت کے لحاظ سے کرتا ہے۔لیکن کبھی ان کو اپنی زندگی کا مستقل شغل قرار نہیں دیتا۔مثلاً سادہ زندگی ، یہ اسلامی تعلیم ہے، لیکن اگر کوئی اپنے طبعی میلان کی وجہ سے کڈ و زیادہ پسند کرے اور یہی زیادہ کھائے تو ہم کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ فلاں شخص اتنی سادگی سے زندگی بسر کرتا ہے کہ ہمیشہ کڈ وکھاتا ہے۔سادگی سے زندگی بسر کرنا اور چیز ہے اور اپنے طبعی میلان یا کسی طبعی ضرورت کی وجہ سے کڑو کھانا اور چیز۔ہماری جماعت میں ایک دوست ہیں اُن کی بیوی میری بیوی کی سہیلی ہے، اُس نے میرے گھر میں ذکر کیا کہ جب بھی میں اپنے میاں سے پوچھتی ہوں کہ کیا پکاؤں؟ تو وہ کہتے ہیں آلو پکا لو۔اس کے علاوہ وہ کوئی اور سبزی کھاتے ہی نہیں بس آلو ہی کھاتے رہتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص اس امر کو لے لے اور کہنا شروع کر دے کہ فلاں دوست تو بڑے سادہ ہیں، ہمیشہ آلو کھاتے ہیں تو کوئی شخص ایسی بات سن کر خوش نہیں ہوگا کیونکہ سادہ زندگی کا اصل یہ ہے کہ کھانے میں کفایت کے اصول کو برتا جائے نہ یہ کہ ہمیشہ آلو یا کڈو کھاتے رہنا۔پھر یہ چیز بھی اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے بدلتی رہے گی۔مثلاً آجکل ہم ایک کھانا کھاتے ہیں لیکن اس کو دیکھ کر اگر کوئی کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستر خوان پر بعض دفعہ دو دو کھانے آجایا کرتے تھے جس سے معلوم ہوا کہ آجکل ہم روحانیت میں آپ سے بڑھ گئے ہیں تو یہ بیوقوفی ہوگی۔پس جو اصولی نیکیاں ہیں اُن کو پیش کرنا چاہئے اور انہی پر زیادہ زور دینا چاہئے۔لیکن اگر ہم کسی کی کوئی ایسی نیکی پیش کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں نہیں پائی جاتی تھی تو ہم حضرت عمر یا کسی اور کی تعریف نہیں کرتے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں۔اسی قسم کی احمقانہ باتوں کے نتیجہ میں لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اسراف