خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 217

۲۱۷ مجلس مش مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم دکھائی گئی ہے، حالانکہ تاریخی طور پر ہی اُس کی بیسیوں نیکیاں ثابت ہیں۔اگر کہا جائے کہ اور نگ زیب اگر مجد دکھا تو اُس نے اپنی بادشاہت میں فلاں فلاں غلطیاں کیوں کیں تو یہ بے وقوفی ہے۔وہ مجددیت اس قسم کی نہیں تھی جو مامورین کو حاصل ہوتی ہے بلکہ عام رنگ کی مجددیت تھی۔وہ اسلام کا درد اپنے سینہ میں رکھتا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اُس سے اپنے دین کا خاص رنگ میں کام لے رہا ہے۔پھر ہر مجد دمبعوث نہیں ہوتا اور نہ مجد د معمولی غلطیوں سے پاک ہوتا ہے۔مبعوث مامورین ہوتے ہیں اور وہ بھی صرف اُن غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں جن کا دین اور شریعت اور اخلاق فاضلہ سے تعلق ہو۔بشری کمزوریاں اُن میں پائی جاتی ہیں۔حدیثوں میں جو یہ آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجد دمبعوث کیا کرے گا اس سے کئی قسم کے مجد د مراد ہیں، بعض مذہبی مجد د ہوتے ہیں، بعض سیاسی مجدد ہوتے ہیں اور بعض علمی مجد د ہوتے ہیں۔جو سیاسی مجد د ہوں وہ سیاسی لحاظ سے اسلام کو غالب کیا کرتے ہیں اور ان کی زندگیاں نیک بادشاہ کے طور پر دیکھی جاتی ہیں نہ کہ نیک پیر کے طور پر۔اور غلطیاں نیک بادشاہ سے بھی ہوسکتی ہیں۔غرض تاریخوں میں مسلمان بادشاہوں پر بہت سے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔اگر ہماری جماعت کے مصنف اس طرف بھی توجہ کریں تو وہ سلسلہ کے لئے مفید لٹریچر مہیا کر سکتے ہیں۔ایک دوست نے توجہ دلائی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے ابتدائی حالات کے متعلق جو میں نے ایک دفعہ لیکچر دیا تھا وہ اگر چھپ جائے تو بہتر ہو۔میرے نزدیک اگر وہ لیکچر لکھا ہو ا مل جائے تو بہت ہی اچھا ہو اور میں شوق بھی رکھتا ہوں کہ اُس پر نظر ثانی ہو جائے اور شائع کر دیا جائے۔الفضل کو ایک ضروری ہدایت کی اور دوستوں ک اور علی سائل کے متعلق کتابیں اسی طرح کو لکھنی چاہئیں، مگر وہ مسائل علمی ہونے چاہئیں۔دوسروں کی اندھی تقلید میں رٹ نہیں لگانی چاہئے۔مثلاً میں نے دیکھا ہے کچھ دن ہوئے الفضل میں حضرت عمر کی سادگی کے متعلق بعض مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں یہ لکھا گیا ہے کہ حضرت عمر کے کپڑوں پر ۱۲ پیوند ہوتے تھے۔اب ایک دفعہ کے متعلق تو یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے، لیکن ۱۲ پیوند ہوتے تھے کے معنے تو یہ ہیں کہ جب بھی وہ کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے