خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 7
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء اعتبار کرتے چلے جائیں گے مگر خدا تعالیٰ کو تو ایک لمحہ کے لئے بھی دھوکا نہیں دے سکتے۔ہم جس مقصد کے پورا کرنے کا دعوئی رکھتے ہیں اگر اس پر ہمارا ایمان ہو تو تمام جماعت میں ایک ایسی آگ لگ جانی چاہئے کہ کسی احمدی کو ایک منٹ کے لئے بھی چین نہ آئے۔بڑی بڑی آگئیں جو حالت پیدا کر دیتی ہیں اُس کو جانے دیں۔پھر اس جنگ کو بھی جانے دیں جس کے متعلق گزشتہ انبیاء نے پیشگوئیاں کیں اور لوگوں پر اس کی اہمیت واضح کرتے رہے۔صرف یہی دیکھ لو کہ کیا ہمارے اعمال اُن لوگوں کے اعمال کے بھی مشابہہ ہیں جن کے گھروں کو آگ لگی ہوئی ہو جو چُستی ، جو تیزی ، جو سرگرمی اُن کے اعمال میں پائی جاتی ہے کیا وہ ہمارے اعمال میں ہے؟ اگر ہمارے اعمال میں وہ چستی نہیں جو ان کے اعمال میں ہے۔اگر ہمارے اقوال اور افعال میں اُن کے برابر سنجیدگی نہیں تو پھر ہم کیونکر اس عظیم الشان تغییر کی امید رکھ سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتیں دُنیا میں پیدا کیا کرتی ہیں اور کیونکر اُس فضل کی اُمید رکھ سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور جس کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہو سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کوئی بڑا کام جس کی ابتداء بِسمِ اللہ سے نہ کی جائے کامیابی کے ساتھ سرانجام نہیں پاتا۔پس جس عظیم الشان کام کے لئے کھڑے ہونے کا دعوی ہم کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی نصرت کے بغیر نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ کی نصرت جن حالات میں آتی ہے مجھے افسوس کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ابھی تک ہماری جماعت پیدا کرنے سے قاصر رہی ہے۔مگر جو غلطی ہم پیچھے کر آئے ہیں کیا آئندہ کے لئے بھی اس کا اعادہ ضروری ہے؟ کسی شخص کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بڑا جابر تھا۔دوسرے لوگ اُسے بہت نصائح کرتے مگر اُس کے دل پر کسی کی بات کا کوئی اثر نہ ہوتا۔وہ اپنی دولت کے گھمنڈ میں اور حکومت کے نشہ میں جو چاہتا کرتا، نہ غرباء کا خیال کرتا نہ ہمسائیوں کے آرام کی اسے کوئی پرواہ ہوتی ، دین کے معاملہ میں ہنسی اور تمسخر کرنا اُس کا معمول تھا ، آخر سب لوگوں نے تنگ آ کر اُسے کچھ کہنا چھوڑ دیا۔ایک دفعہ ایک بزرگ نے جو اُسے نصیحت کرتے رہتے تھے مگر وہ نہ مانتا تھا اُسے خانہ کعبہ میں دیکھا اور حیران رہ گئے۔پوچھا تم کہاں؟ کہنے لگا آپ کو معلوم ہے بہت لوگوں نے مجھے نصیحتیں کیں مگر مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقدر کیا ہوا تھا۔ایک دن میں بازار میں سے