خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 203
خطابات شوری جلد دوم ۲۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ في سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانَ مَرْصُوصٌ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمٍ لمْ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمٌ يُبَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ تُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَةِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا هُذَا سِحْرُ مُّبِيْنَ وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَى إِلَى الاسلام وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِةَ الكَفِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِةَ الْمُشْرِكُونَ ان آیات کی تلاوت کے بعد حضور نے مجلس مشاورت کے دوران اخذ کردہ تاثرات کی روشنی میں ضروری نصائح بیان کرتے ہوئے فرمایا :- دو پیشتر اس کے کہ میں احباب کو وہ آخری نصائح کروں جو اس مجلس شوری کے تاثرات کے نتیجہ میں میرے ذہن میں پیدا ہوئی ہیں میں چند باتیں اُن امور کے متعلق کہنا چاہتا ہوں جو بجٹ پر بحث کے دوران میں دوستوں نے پیش کیں ۔ ایک دوست نے فیروز پور کے متعلق بقایوں کی ایک لمبی فہرست پیش کر کے ثابت کیا ہے کہ بقائے فرضی ہیں ۔ وہ دلائل یا یوں کہنا چاہئے کہ اُن میں سے اکثر دلائل ایسے محیر العقل ہیں کہ اُن کے بعد انسان کے دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے کہ آیا بجٹ کی مہیا کردہ باقی معلومات بھی صحیح ہیں یا نہیں۔ اگر ایک ضلع میں اتنی جماعتوں کے بقائے دکھائے گئے ہیں جو بالکل غلط ہیں تو بالکل ممکن ہے ایک لاکھ سات ہزار بقایا میں سے ہیں تمیں ہزار یا اس سے زیادہ ایسا بقایا نکل آئے جو غلط ہو۔ دوسری طرف یہ بھی محیر العقل بات نظر آتی ہے کہ تجویز شدہ بجٹ کے مقابلہ میں جو آمد عملی بتائی جاتی ہے وہ بہت ہی کم ہوتی ہے۔ اور ہر سال ہی گزشتہ سالوں کے بجٹ میں سے چالیس پچاس ہزار کے بقائے رہ جاتے ہیں ۔ اب اگر اس نقطۂ نگاہ سے ہم بقایوں