خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 193
۱۹۳ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم توكلتُ فَاجْمعُوا امْرَكُمْ وَشُرَكَاءَ كُمْ ثُمَّ لَا يَكُن أمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقضوا إلي ولا تنظرون اے فرماتا ہے ان کو ذرا نوح کے حالات پڑھ کر سنا۔جب نوح نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر تمہیں میرا مقام اور میرا نصیحت کرنا بعید از عقل معلوم ہوتا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ یہ ماننے والی بات نہیں گویا تم اس بات کو بہت بڑا سمجھتے ہو کہ کس طرح کسی انسان کو نبوت اور داعی الی اللہ ہونے کا مقام حاصل ہو گیا تو فعل اللهِ تَوَكَّلْتُ میں نے نہ تمہاری مدد کی امید سے یہ کام شروع کیا ہے اور نہ مجھے تمہاری مخالفت کا ڈر ہے کہ اگر تم مخالفت کرو گے تو مجھے نقصان پہنچے گا۔میں نے تو اللہ تعالیٰ پر ہی تو کل کیا ہوا ہے۔فاجمعوا امركُمْ وَ شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ آمُرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةٌ - تم جاؤ اور جتنی تدابیر ممکن ہو سکتی ہیں اُن سب کو اختیار کرو۔پھر جو تمہارے دوست اور مددگار ہیں اُن کو بھی بلاؤ اور انہیں کہو کہ تم بھی اپنی ساری تدابیر اختیار کرو اور مخالفت کے تمام ذرائع سوچ لو اور جب تمہاری طاقتیں اور تمہارے حلیفوں کی طاقتیں جمع ہو جائیں تو پھر جلد بازی سے حملہ نہ کرو بلکہ حملہ کرنے سے پہلے سارے پہلو سوچ لو - لا يكُنْ آمُرُكُمْ عَلَيْكُمْ خمةٌ تمہارے پروگرام کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو جو تم پر پوشیدہ ہو بلکہ پری میڈی ٹیٹیڈ پلین (PRE-MEDITATED PLAN) ہو۔یعنی کام کرنے سے پیشتر سارا ڈھانچہ اپنے سامنے رکھ لو۔جیسے آجکل انجینئر عمارت بناتے ہیں تو عمارت بنانے سے پہلے اُس کا نقشہ تیار کر لیتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کے تنزل کے زمانہ میں معمار یونہی عمارت بنانی شروع کر دیتے تھے، اور اس وجہ سے انہیں عمارت کئی دفعہ گرانی پڑتی تھی اور گو گراتے اب بھی ہیں لیکن پہلے زمانہ میں ایک نقشہ تیار نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ دفعہ عمارت گرانی پڑتی تھی۔تو حضرت نوح علیہ السلام کہتے ہیں کہ انسانی علم کی تکمیل کے جتنے ذرائع ممکن ہیں وہ سب سوچ لو کہ اگر میں نے یوں کیا تو تم یوں کرو گے، اور اگر یہ تدبیر سوچی تو تم وہ تدبیر کرو گے۔غرض اپنی حفاظت اور میری تباہی کے جتنے راستے ممکن ہیں وہ سب سوچ لو۔تم اقضُوا الي ولا تنظرون۔پھر تم سارے کے سارے مل کر مجھ پر ٹوٹ پڑو، اور مجھے کسی قسم کی مہلت نہ دو۔پھر دیکھو تمہاری تکمیل کے دعوی کا کیا حشر ہوتا ہے۔تم میرے دعوئی کے متعلق تو سمجھتے ہو کہ یہ عقل کے بالکل خلاف ہے۔نبوت کا عہدہ کسی انسان کو مل ہی نہیں سکتا۔گویا میری