خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 192
خطابات شوری جلد دوم ۱۹۲ مشاورت ۱۹۳۷ء خدایا! مجھ پر موت آ گئی، میں اب تیرے احیاء کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہوں۔میری کوششیں سب رائگاں گئیں ، میری محنتیں سب ضائع گئیں، اب تیرا احیاء ہی ہے جو مجھے کامیاب کرے، اور میرے مُردہ کاموں کو زندہ کر دے۔تب اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ احیاء کا جلوہ دکھاتا اور اُسے تاریکیوں سے باہر نکال لیتا ہے۔یہ وہ چیز ہے جس کا نام تو کل ہے۔اگر یہ نہ ہو تو خالی لفظ تو گل اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ مسلمانوں کی تباہی کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ منہ سے کہہ دیتے ہیں اللہ کے فضل سے ہم مسلمان ہیں اور کبھی مسلمان بنے کی کوشش نہیں کرتے۔تو یہ چیزیں ہیں جن کی انسان کو ضرورت ہے مگر وہ تدابیر کے بارہ میں ہمیشہ تین غلطیاں کرتا ہے۔اول۔لوگوں کے متعلق اندازہ لگانے میں وہ یہ غلطی کرتا ہے کہ اپنے نفس کا مطالعہ کئے بغیر اور انسانی حدود کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ دُنیا کے متعلق اچھا یا بُر اغلط اندازہ لگا دیتا ہے۔دوم۔دُنیا کا اندازہ وہ انسانی طاقتوں کو مد نظر رکھ کر نہیں لگا تا بلکہ صرف اپنی ذات کی موجودہ حالت کو دیکھ کر۔اگر وہ اچھی ہوتی ہے تو سب دُنیا کے متعلق اچھا اندازہ لگا لیتا ہے اور اگر وہ بُری ہو تو بُرا اندازہ لگا لیتا ہے۔سوم۔وہ خدا تعالیٰ کے بارہ میں یہ غلطی کرتا ہے کہ کبھی وہ اُس کی صفت امانت کو سامنے رکھتا ہے اور صفت احیاء کو بُھول جاتا ہے اور کبھی صفت احیاء سامنے رکھتا ہے اور صفت امانت کو بُھول جاتا ہے اور یہ دونوں باتیں تو کل کے خلاف ہیں۔یہ تین چیزیں ہیں جن میں سے ہر ایک کی دو شقیں ہیں اور جن میں غلطی کرنے کی وجہ سے انسانی اندازے سب غلط ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا کامل طور اُسی پر تو کل ہو اور وہ کسی چیز کو بھی خدا کے برابر نہ سمجھے۔نہ موت کو نہ حیات کو، نہ سامانوں کو نہ سامانوں کے فقدان کو۔دیکھو کس عجیب طرز پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تو کل کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے انسانی خیالات کی تردید کی ہے وہ فرماتا ہے۔وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَانُو إِذْ قَالَ لِقَوْمِه يقوم إنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَاعِي وَتَذْكِيرِي بِأَيْتِ اللَّهِ فَعَلَ اللَّهِ