خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 187
خطابات شوری جلد دوم ۱۸۷ مشاورت ۱۹۳۷ء بعد حضور نے نمائندگان کو نہایت اہم ہدایات سے نوازا۔آپ نے فرمایا : - انسانی نفس جب کسی چیز کا اندازہ لگاتا ہے تو اُس سے یہ غلطی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے نفس کو بُھول جاتا ہے اور دوسروں کے متعلق ایسے قواعد مقرر کرتا ہے جو صحیح نہیں ہوتے اس وجہ سے اُس کے اندازے بسا اوقات غلط ہو جاتے ہیں۔یعنی کبھی وہ انسانی مشکلات کو نظر انداز کر دیتا ہے اور کبھی انسانی خوبیوں کو۔پھر کبھی وہ یہ غلطی کرتا ہے کہ اپنے نفس کا اندازہ لگا کر ساروں پر اُس کو چسپاں کر دیتا ہے۔اس کی بھی آگے پھر دو قسمیں ہیں، یعنی ایک اچھا اندازہ ہوتا ہے اور ایک بُرا اندازہ۔گویا کبھی وہ اپنے نفس کی مجبوریوں کو بُھول کر دوسروں کا اندازہ لگاتا ہے اور وہ اندازہ ضرورت سے زیادہ خوشنما ہوتا ہے اور کبھی اپنے نفس کی کمزوریوں کو دیکھ کر سب کو معذور و مجبور قرار دے دیتا ہے اور یہ حقیقت سے بڑھ کر بُرا اندازہ ہوتا ہے۔غرض جب وہ بدظنی کی طرف مائل ہوتا ہے تو سمجھتا ہے کہ سب دُنیا بد ہے اور جب نیک ظنی کی طرف مائل ہوتا ہے تو سمجھتا ہے سب دُنیا فرشتہ ہے۔اور جب وہ دوسروں کو بُھول جاتا ہے اور صرف اپنے نفس کو اپنے سامنے رکھتا اور اُس کے مطابق ایک رائے قائم کر لیتا ہے تو اس کے نتیجہ میں بھی کبھی وہ اپنی نسبت اچھا فیصلہ کر کے سمجھتا ہے کہ میں چونکہ نیک اور قربانی کرنے والا ہوں اس لئے میری طرح ساری دُنیا ہی نیک ہے اور کبھی اپنی نسبت بُری رائے قائم کر کے خیال کر لیتا ہے کہ میری طرح ساری دُنیا ہی بُری ہے۔تو حقیقی اندازہ جس میں انسان کا دماغ ہر قسم کے تعصبات سے پاک اور تمام غلط حدود سے آزاد ہو، بہت مشکل کام ہوتا ہے اور بہت کم لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ وسطی اندازہ لگا سکیں۔یعنی نیکیاں بھی مد نظر رکھ سکیں اور کمزوریاں بھی اور دین کے معاملہ میں تو ایک زائد چیز بھی شامل ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل کو انسان مدنظر رکھتا ہے۔گو اس میں بھی غلطی ہو جاتی ہے جیسے کل ہی میں نے بتایا تھا کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جائے گا، مگر وہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی عقل سے کام نہیں لیتے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے نزول کے لئے بعض قواعد رکھے ہوئے ہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے نا امیدی انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اسی طرح قانونِ قدرت کو نظر انداز کرنا بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم کر دیتا ہے۔پس مومن کو ہر کام کے کرتے وقت یہ امر مد نظر