خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 183
خطابات شوری جلد دوم گی تو پھر موقع پر تبلیغ بھی آسان ہوگی۔۱۸۳ مشاورت ۱۹۳۷ء پس ان علاقوں میں تبلیغی مرکز قائم کرنا نہایت ہی اہم اور ضروری ہے۔لیکن ضرورت ہے کہ ہم اپنے مبلغوں کو زیادہ سے زیادہ سنجیدہ اور کارآمد بنا ئیں۔ضرورت ہے کہ ہم اُن سے زیادہ سے زیادہ کام لیں۔ضرورت ہے کہ جماعت میں اس بات کا احساس ہو کہ مبلغ کا کام تبلیغ کرنا ہی نہیں بلکہ اسلامی مسائل سمجھانا یا ایسے علاقوں میں جانا ہے جہاں اور لوگ تبلیغ کے لئے نہیں جا سکتے اور ضرورت ہے کہ مبلغوں کو ایسے سنٹروں میں جمع کیا جائے جہاں اُن کا جمع کرنا سلسلہ کے لئے اور اسلام کی عام ترقی کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہو۔میں نے ایک دفعہ صدر انجمن احمدیہ سے کہا تھا کہ تمہارا تبلیغی کام کم ہو رہا ہے اور تحریک جدید ایک عارضی تحریک ہے، تم تحریک جدید کے نمائندہ کے طور پر میرے ساتھ ٹھیکہ کرلو، شرط صرف یہ ہوگی کہ جو نئے مرکز تحریک جدید قائم کرے اُن مرکزوں میں جتنا چندہ بڑھے وہ آدھا تمہارا ہو اور آدھا تحریک جدید کا اور وہ آدھا چندہ اُس وقت تک تحریک جدید کو ملتا رہے جب تک کہ اس کی خرچ شدہ رقم پوری نہ ہو جائے۔جب وہ پوری ہو جائے تو پھر سا را چندہ صدر انجمن احمدیہ کو ملتا رہے۔آخر تحریک جدید کے چندہ کو ہم مستقل طور پر جاری نہیں رکھ سکتے لیکن اس کام کو مستقل طور پر جاری رکھنا ضروری ہے اور اس کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ تحریک جدید کی طرف سے جو خرچ ہو، صدر انجمن احمدیہ کی آمد بڑھنے پر وہ تحریک جدید کی مد کو واپس مل جائے اور اس طرح تبلیغ کا میدان وسیع ہوتا چلا جائے۔اس معاملہ کو میں نے زیادہ سنجیدہ رنگ میں پیش نہیں کیا تھا مگر میری یہ بات ہنرل کے طور پر بھی نہیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ تحریک جدید کے کام کو اب چھوڑ انہیں جا سکتا اور اس کے لئے اب مستقل طور پر اخراجات کی ضرورت رہے گی۔اسی لئے تحریک جدید کی میں کچھ جائداد صدر انجمن احمدیہ کے نام پر خرید رہا ہوں۔کچھ تجارتیں شروع کی ہیں اور کوشش کر رہا ہوں کہ تحریک جدید کے ماتحت جو مشن کھولے گئے ہیں ، اُن کے اخراجات کا بوجھ تحریک جدید پر نہ رہے بلکہ مبلغ خود اپنا خرچ تجارت کے ذریعہ سے نکال سکیں لیکن یہ چیزیں وقت چاہتی ہیں۔پس ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا فیصلہ یہ ہے کہ موجودہ صورت میں جس