خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 176

خطابات شوری جلد دوم 127 مشاورت ۱۹۳۷ء لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں یہ تعدا د سخت قلیل ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو کام تجارت سے تعلق رکھتے ہیں اُن کی جب ہمیں ضرورت پیش آتی ہے تو ہمیں اپنے لئے کوئی رستہ نظر نہیں آتا۔یا د رکھنا چاہئے کہ ملکوں پر ہمیشہ تین قسم کا دور آیا کرتا ہے۔ایک دور یہ آتا ہے کہ ملازم نقصان میں ہوتے ہیں۔ایک دور یہ آتا ہے کہ زمیندار نقصان میں ہوتے ہیں۔اور ایک دور یہ آتا ہے کہ زمیندار اور ملازم دونوں نقصان میں ہوتے ہیں لیکن تاجر نفع میں ہوتا ہے۔اگر ان تینوں طبقوں کے لوگ کثرت سے جماعت میں شامل نہ ہوں تو جماعت کی مالی حالت بعض دفعہ سخت خراب ہو جاتی ہے کیونکہ اگر زمینداروں پر مصیبت آئے تو تاجر اور ملا زم طبقہ اس کمی کو پورا کر سکتا ہے اور ملازموں پر کوئی مصیبت آئے تو زمیندار اور تاجر طبقہ اس کمی کو پورا کر دیتا ہے لیکن اگر زمیندار اور ملازم دونوں پر مصیبت آ جائے اور تاجر کوئی نہ ہو تو ایسا دور جماعت کی مالی حالت کو سخت خراب کرنے والا ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں جب زمیندار اور ملازم پر مصیبت کا زمانہ آتا ہے اور اُن کی طرف سے چندوں میں کمی آنی شروع ہوتی ہے تو تاجروں کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ تیسرا دور ہمارے حساب کو بالکل خراب کر دیتا ہے۔پھر جو ان تاجروں کے ارد گرد کا طبقہ ہے اس نقص کی وجہ سے اُن پر بھی ہم اپنا اثر نہیں ڈال سکتے۔علاوہ ازیں تاجروں سے جو اور بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہ بھی ہم نہیں اُٹھا سکتے۔مثلاً زمیندار تاجر کو آڑھت دیتا ہے تو بعض دفعہ پیسہ، بعض دفعہ دھیلہ اور بعض دفعہ دمڑی آڑھت لے کر ہندو تاجر لاکھوں کروڑوں روپیہ اپنی قوم کو دے دیتا ہے۔گویا وہ دھرم ارتھ کے نام پر دمڑی لیتا اور ایسے لوگوں کو وہ روپیہ دے دیتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتے اور آپ کے خلاف لٹریچر شائع کرتے ہیں۔اس طرح ہندوستان کو مدنظر رکھتے ہوئے کروڑوں روپیہ تاجروں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے لیکن اس کا کوئی حصہ ہمارے پاس نہیں آ سکتا۔پھر یہ تو ہندو تاجروں کا ذکر ہے، جو مسلمان تاجر ہیں اُن سے بھی دوسرے لوگ جو فوائد اُٹھا رہے ہیں وہ ہم نہیں اُٹھا سکتے۔احرار کو گزشتہ دنوں جتنی امداد پہنچی اُس کا بیشتر حصہ ایسا تھا جو تاجروں سے ملا۔افریقہ کا ایک تاجر اُنہیں ایک لمبے عرصہ تک ایک معقول رقم امداد کے طور پر بھجواتا رہا۔اسی طرح