خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 175
خطابات شوری جلد دوم ۱۷۵ مشاورت ۱۹۳۷ء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کرتی ہے یا نہیں؟ جب کرتی ہے اور ان ملازموں کے بیوی بچوں کو بھی وہیں جانا پڑتا ہے جہاں تبدیلی ہوئی ہو۔تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے مبلغ اپنے بیوی بچوں کو وہاں نہ رکھ سکیں جہاں اُن کی تبدیلی کی جائے۔اس طرح گاؤں میں رہنے کی وجہ سے زائد الاؤنس دینے کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ زائد الاؤنس ہمیشہ بڑے شہروں میں رہنے پر ہی دیا جا سکتا ہے۔میرے نزدیک یہ قانون ہونا چاہئے کہ پچاس ہزار سے زیادہ آبادی رکھنے والا جو شہر ہو اُس میں اگر کسی مبلغ کو ہم مقرر کریں تو زائد الاؤنس دیں گے اس کے علاوہ کسی جگہ نہیں دیں گے۔اگر اُنہوں نے قادیان میں اپنا مکان بنایا ہوا ہے تو بیوی بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی وجہ سے وہ مکان کو کرایہ پر چڑھا سکتے ہیں ، اور اگر اپنا مکان نہیں بلکہ کرایہ پر رہتے ہیں تو وہ جس طرح یہاں کرایہ دیتے ہیں اسی طرح باہر کرایہ دیں۔غرض ایسے مبلغ دو تین سال یا سال ڈیڑھ سال مسلسل ایک جگہ رکھے جائیں۔اس کے نتیجہ میں کرایہ کے اخراجات بہت حد تک کم ہو جائیں گے۔تبلیغی مراکز کی ضرورت اب میں ان تبلیغی مرکزوں کے قیام کی ضرورت کو لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ دو تین سال سے میں کلکتہ اور بمبئی وغیرہ کو تبلیغی مرکز بنانے پر کیوں زور دے رہا ہوں۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ جماعتوں میں ہر قسم کے آدمیوں کا شامل ہونا ضروری ہوتا ہے۔گویا جماعتی ترقی کے لئے تنویع نہایت ضروری ہے اور کوئی جماعت ترقی نہیں کر سکتی جب تک اُس میں مختلف قسم کے افراد شامل نہ ہوں۔ہم جب اپنی جماعت پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت میں ملازموں کا ایک بڑا حصہ ہے۔اسی طرح زمینداروں کا ہماری جماعت میں ایک بڑا حصہ ہے، لیکن تاجر بہت کم ہیں، حالانکہ مفت تبلیغ ہمیشہ تاجروں کے ذریعہ ہوتی ہے۔زمیندار اس میں ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا، ملازم پیشہ ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا، صرف تاجر کر سکتا ہے، اور تاجر ہماری جماعت میں صرف گنتی کے چند افراد ہیں۔بڑا تاجر تو ہماری جماعت میں کوئی ہے ہی نہیں۔جو درمیانہ طبقہ کے تاجر ہیں وہ صرف ہماری جماعت میں دو چار ہیں۔اور جو چھوٹے درجہ سے اوپر کے تاجر ہوتے ہیں، وہ ہیں ، تمھیں، چالیس ہوں گے اور جو معمولی حیثیت کے تاجر ہیں، وہ ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ نہیں ہوں گے حالانکہ ہماری جماعت