خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 171
خطابات شوری جلد دوم مشاورت ۱۹۳۷ء ترکوں اور افغانوں کے قافلوں میں جاتا رہے لیکن محکمہ اس کو قائم نہیں رکھ سکا اور اُس نے آدمی واپس بلا لیا۔پس یہ ایسی ضرورتیں ہیں جن کے متعلق دیکھنا چاہئے کہ یہ کیا اہمیت رکھتی ہیں اور آیا ان ضرورتوں کو پورا کرنا ممکن ہے یا نہیں؟ اور اگر ہم بجٹ میں زیادتی نہیں کر سکتے تو کیا کسی مد میں کمی کر کے اس ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ مبلغین کیلئے ہدایات میرے نزدیک اس وقت ہمارے راستہ میں مبلغوں کی کمی روک نہیں بلکہ مبلغوں کی زیادتی روک ہے۔میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اگر ہم جماعت کی انفرادی کوششوں کو جو وہ تبلیغ کے لئے کرتی ہے منہا کر دیں اور دیکھیں کہ مبلغوں کے ذریعہ کتنے احمدی ہوئے تو میرا خیال ہے زیادہ کام انہی کا نکلے گا جو مبلغ نہیں، اور جو مبلغ ہیں ان کا کام بہت ہی تھوڑا نکلے گا۔مثلاً ہر سال پانچ سات ہزار آدمی بیعت میں داخل ہوتا ہے ان پانچ سات ہزار افراد میں سے زیادہ سے زیادہ سو دو سو ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مبلغوں کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں، باقی سب وہ ہوتے ہیں جو افراد کے ذریعہ احمدیت قبول کرتے ہیں۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ مبلغ بے فائدہ چیز ہیں وہ بھی ضروری ہیں بلکہ میں نے خود زور دے کر یہ منظور کرایا تھا کہ کم سے کم تین مبلغ سالانہ نئے لینے چاہئیں۔پس میں ان کے مخالف نہیں، میں آج بھی ان کی ضرورتوں کا قائل ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم چودہ پندرہ ہزار روپیہ سالانہ مبلغوں کو تیار کرنے پر خرچ کرتے ہیں تو ان مبلغوں کو تیار ہونے کے بعد چھوڑ دینا یہ خدائی مال کا ضیاع ہے اور ہمارا فرض ہے کہ جب تک ہم مدرسہ احمدیہ اور کالج جاری رکھیں، کچھ نہ کچھ لڑکوں کو جو تبلیغ کے لئے نمایاں طور پر مفید ثابت ہو سکتے ہوں ہر سال چنیں اور انہیں تبلیغ پر لگائیں۔پس اس رنگ میں بھی تبلیغ ہونی چاہئے اور میں اس کا قائل ہوں لیکن میرا اثر مبلغوں کے متعلق یہ ہے کہ وہ چھ مہینے کے قریب قادیان رہتے ہیں اور چھ مہینے باہر کام کے لئے جاتے ہیں۔اول تو وہ جلسہ سالانہ پر آتے ہیں اور اس کے لئے نومبر سے ہی آنا شروع کر دیتے ہیں۔پھر جلسہ کے بعد روپے کا سوال ہوتا ہے اور دفتر والے کہتے ہیں کہ بل نہیں بنے۔جنوری کے آخر میں بل بنتے ہیں تو روپیہ موجود نہیں ہوتا ، آخر ہوتے ہوتے فروری کے قریب روپیہ ملتا ہے اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں روانہ ہو جاتے ہیں لیکن اس کے معاً بعد